تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 235

نہیں بلکہ خود اُسے اللہ تعالیٰ کی ہر آن اور ہر لمحہ احتیاج ہے۔لیکن بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہمارا نماز پڑھنا یا ہمارا صدقہ دینا یا ہمارا زکوٰۃ ادا کرنا یا ہمارا حج کرنا نعوذ بااللہ خدا تعالیٰ پر کوئی احسان ہے۔اسی وجہ سے جب وہ کسی مصیبت میں گرفتا ر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں۔معلوم نہیں خدا نے ہمیں کیوں مصیبت میں ڈالا۔ہم تو نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں اور زکوٰۃ بھی دیتے ہیں اور اسی طرح دوسرے مذہبی احکام پر بھی عمل کرتے ہیں گویا وہ اپنے دل میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اُن سے بد سلوکی کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کسی شخص کا بیٹا مر گیا اور اُس کا ایک دوست تعزیت کے لئے اُس کے پا س گیا تو وہ چیخ مار کر روپڑا اور کہنے لگا خدا نے مجھ پر بڑا بھاری ظلم کیا ہے گویا نعوذباللہ اُس کا کوئی حق خدا تعالیٰ نے مار لیا تھا۔جس کا اُسے شکوہ پیدا ہو ا۔مگرسوچنا چاہیے کہ وہ کون سا حق ہے جو بندہ نے خدا تعالیٰ پر قائم کیا ہے۔مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج اور تقویٰ و طہارت پر فخر کیا کرتے ہیں وہ تو کسی تکلیف کے موقعہ پر چلا اُٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم کیا۔لیکن ہندوستان کا وہ مشہور شاعر جو دین سے بالکل ناواقف تھا ایک سچائی کی گھڑی میں باوجود شراب کا عادی ہونے کے کہہ اٹھا کہ ؎ جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ا (دیوان غالب صفحہ ۱۵۰) غور کرنا چاہیے کہ جو چیز بھی انسان کے پاس سے جاتی ہے وہ آئی کہاں سے تھی ؟ ذرا اپنی حیثیت کو تو دیکھو وہ کونسی چیز ہے جسے اپنی کہہ سکتے ہو۔انسان کہتا ہے میری بیوی ہے۔مگر وہ کہاں سے آئی ؟ بچے جنہیں اپنا کہا جاتا ہے کہاں سے آئے ہیں۔اسی طرح مکان زمین اور سب ضروری اشیاء جنہیں اپنی سمجھا جاتا ہے کہاں سے آتی ہیں۔اگر ان چیزوں کی حقیقت پر غور کیا جائے تو بآسانی معلوم ہو جائےگا۔کہ یہ چیزیں انسان کی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے موہبت اور عطیہ ہیں اور عطیہ دینے والے کا حق ہے کہ وہ جب چاہے واپس لے لے بلکہ عطیہ بھی اُسے کہتے ہیں جو کبھی واپس نہ لیا جائے۔مگر دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ آخراُس سے لیا جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں انسان کو حقیقی عطیہ بھی نہیں ملتا۔بلکہ تمام اشیاء عاریتًا استعمال کے لئے دی جاتی ہیں۔اور اس طرح چیز دینے والے کا حق ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے واپس لے لے۔