تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 233

ناطاقت ممالک پر حملہ نہیں کریں گے۔اُن کے حقوق کو سلب نہیں کریں گے اور اپنی راتیں بجائے شراب اور ناچ گانے میں بسر کرنے کے عبادت اور ذکر الٰہی اور دعائوں میں بسر کریں گے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے رہیں گے کہ وہ انہیں تنزل کا شکار ہونے سے محفوظ رکھے۔انہیں بد اعمالیوں کے جہنم سے بچائے۔انہیں دین سے غفلت اور لاپرواہی اور خدا تعالیٰ سے دُوری اور اُس سے بے تعلقی کے جہنم سے بچائے۔اور جو اپنی حکومت کے دوران میں کسی قسم کے اسراف سے کام نہیں لیں گے اور قوم کا روپیہ اپنی عیاشیوں میں صرف نہیں کریں گے۔نہ قومی روپیہ کے خرچ کرنے میں کس قسم کے بخل سے کام لیں گے یعنی نہ تو وہ روپیہ کا بے محل استعمال کریں گے اور نہ ایسا ہو گا کہ وہ روپیہ تو جمع کرتے رہیں اور قوم بھوک اور افلاس کا شکار رہے اور وہ اس کی ترقی کے لئے سکول اور کالج اور کنوئیں اور شفا خانے اور کارخانے اور ڈاکخانے وغیرہ جاری نہ کریں۔اسی طرح وہ لوگ جو اپنے دور حکومت میں اس بات کی سختی سے نگرانی رکھیں گے کہ توحید کا قیام ہو اور اسلام کی تبلیغ اور اُس کی اشاعت کاکام وسیع پیمانہ پر جاری رہے اور وہ لوگ جو اپنی حکومت کے بل بوتے پر ناجائز خون نہیں بہائیں گے نہ زنا کاری کے قریب جائیں گے نہ بالا افسروں کی خوشامد اور اُن کی چاپلوسی کے لئے جھوٹی گواہیاں دیں۔نہ سینما اور شراب اور جؤا اور حقّہ اور دوسری منشیات اور لغویات کے قریب جائیں گے۔اسی طرح وہ لوگ جو اپنی طاقت کے زمانہ میں خدا تعالیٰ کا نام آنے پر لرزجائیں گے۔اور انہیں جب بھی خدا تعالیٰ کا نام لے کر کوئی نصیحت کی جائےگی تو وہ اُسے توجہ سے سُنیں گے اور اپنی کمزوریوں کو دُور کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ لوگ جو ہمیشہ یہ دُعائیں کرتے رہیں گے کہ الٰہی تو نے ہمیں اپنے فضل سے حکومت تو عطا فر ما دی ہے۔اب ایسا فضل فرما کہ ہماری آئندہ نسل بھی حکومت کی اہل رہے اور وہ بھی تیرے نام کو بلند کرنے والی اور ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی ہو۔تو اللہ تعالیٰ ایسے پاکباز لوگوں کی ان اعلیٰ درجہ کی نیکیوں اور دعائوں کو کبھی ضائع نہیں کرےگا۔بلکہ انہیں اپنے فضل سے ایسا غلبہ عطا فرمائےگا کہ ساری دنیا اُن کے زیر نگیں ہو جائےگی اور دنیا کا کونہ کونہ خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول کے نام سے گونج اُٹھے گا۔