تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 232

کوشش کریں گے کہ اُن کی آئندہ نسل نیک ہو اور وہ رات دن اُن کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے قیامت کے دن ہم اُن کو اُن کے صبر کرنے کی وجہ سے یعنی اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے نفس کو بدیوں سے روکا اور اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کی اور آئندہ نسل کو نیکی پر قائم کیا اونچے سے اونچے مقامات دیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں سلامتی کے پیغام پہنچیں گے اور یہ پیغام صرف ایک دفعہ پہنچ کر ختم نہیں ہو جائیں گے بلکہ دائمی طور پر پہنچتے چلے جائیں گے۔گویا جس طرح دنیا میں انہوں نے اپنے بچوں کو جھوٹ سے اور فریب سے اور گالیوں سے او ر چغل خوری سے اور خیانت سے اور ظلم سے اور فساد سے اور خونریزی سے اور چوری سے اور بہتان سے اور استہزاء سے اور سُستی سے اور ناواجب طرفداری سے اور لغویات میں حصّہ لینے سے اور اسی طرح اور ہزار وں کی قسم کی بدیوں سے روکا اور سلامتی پھیلائی اسی طرح جب وہ جنت میں جا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرما ئے گا کہ یہ وہ بندے ہیں جن سے میرے بندے دنیا میں امن میں رہے۔اس لئے جائو اور انہیں دارالسلام میںداخل کر دو جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے۔پھرغُرْفَۃ کے ایک معنے جیسا کہ حل لغات میں بتا یا جا چکا ہے ساتویں آسمان کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ عباد الرحمٰن جنہوں نے دنیا میں انکسار اور عدل و انصاف کے ساتھ اپنی عمر بسر کی۔جو دن کے اوقات میں بھی احکامِ الٰہی کے تابع رہے اور رات کی تاریکیوں میں بھی سجدہ و قیام میں اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے اور دعائیں کرتے رہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُن کے درجات کو بلند کرتے ہوئے انہیں ساتویں آسمان پر جگہ عنایت فرمائےگا یعنی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ رکھے جائیں گے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ساتویں آسمان پر ہی ہیں ( مسند احمد بن حنبل حدیث مالک بن صعصعۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الاخلاق من قسم الاقوال) اس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بھی اشارہ فرمایا ہے کہ اِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلیٰ السَّمَآئِ السَّابِعَۃِ ( کنزالعمال جلد ۲ صفحہ ۲۵ایڈیشن اول، ترمذی ابواب البر و الصلۃ باب ما جاء فی التواضع) کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے ساتویں آسمان میں جگہ دیتا ہے چونکہ ان لوگوں نے خدا کے لئے ھون اور تذلل اختیار کیا ہو گا اس لئے خدا تعالیٰ بھی انہیں سب سے اونچا مقام رفعت عطا فرمائےگا اور انہیں منازلِ قرب میں سے سب سے اونچی منزل عطا کی جائےگی۔مگر چونکہ ان آیات کا تعلق مسلمانوں کے اس دَور کے ساتھ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا پر حکومت اور غلبہ عطا فرمانا تھا اس لئے اُولٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْ ا فرماکر اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ خدائے رحمٰن کے وہ پاک بندے جو دنیا پر حکمرانی کرتے وقت اخلاقِ فاضلہ کا ایک مجسم نمونہ ہو ںگے۔جو اپنے نشۂ حکومت میں کمزور اور