تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 231

عبرت حاصل کریں اور اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کی طرف توجہ کریں اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں کرتے رہیں کہ وہ ان کی زندگی میں بھی اور اُن کی موت کے بعد بھی اُن کی نسلوں کو نیکی پر قائم رکھے اور ہمیشہ اُن کاوجود اُن کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا موجب بنے تو اب بھی وہ اپنی کھوئی ہوئی متاع کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔پس انہیں اپنی ہمتوں کو بلند کرنا چاہیے اور مایوسی کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتا یا ہے کہ مومن چھوٹی چھوٹی باتو ں پر راضی نہیں ہوتا بلکہ وہ لیڈر اور امام بننے کی دُعا کرتا ہے۔مگر کن کا امام ؟ متقیوں کا امام ، غیر متقیوں کا نہیں۔ممکن ہے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہر شخص کس طرح لیڈر اور امام بن سکتا ہے۔سو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر مرد کوشش کرے کہ میری بیوی دین سے واقف ہو۔نماز روزہ کی پابند ہو۔دینی کاموں میں حصّہ لینے والی ہو بچوں کی نیک تربیت کرنے والی ہو تو مرد امام ہوگا اور بیوی ماموم۔اسی طرح اگر ماں اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کرے تو وہ امام ہوگی اور اولاد ماموم۔اور اولاد کے نیک کام بھی اس کی طرف منسوب کئے جائیں گے۔عورت قبر میں سو رہی ہو گی مگر جب اس کے بچے صبح کی نمازپڑھیں گے تو فرشتے لکھ رہے ہوںگے کہ اس بی بی نے صبح کی نماز پڑھی۔اسی طرح اگر اُس نے اپنی اولاد کو تہجد کی عادت ڈالی ہوگی تو فرشتے لکھ رہے ہوںگے کہ اُس نے تہجد کی نماز پڑھی۔یہی حال مردوں کا ہے وہ بھی جتنے لوگوں کی ہدایت کا موجب بنیں گے اُن سب کے نیک اعمال کے ثواب میں وہ بھی شریک ہوںگے۔اس طرح وہ امام ہوںگے اور دوسرے لوگ ماموم۔غرض اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے ہمیشہ اپنی آئندہ نسل کی دینی و دنیوی ترقیات کے لئے دُعائیں کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ نورِ ایمان جو اُن کے دلوں میں پا یا جاتا ہے صر ف اُن کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ قیامت تک چلتا چلا جائے اور کوئی زمانہ بھی ایسا نہ آئے جس میں اُن کی اولاد یا اُن کے متبع اور شاگرد دنیا داری کی طرف مائل ہو جائیں اور خدا اور رسول کے احکام پر دنیا کو مقدم کر لیں۔قرآن کریم نے حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کی ایک بڑی خوبی یہ بیان فرمائی ہے کہ کَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ( مریم :۵۶) یعنی وہ اپنے بیوی بچوں اور رشتہ دار وں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کیا کرتے تھے تاکہ خدائے واحد کی حکومت دنیا میں ہمیشہ قائم رہے۔اور ہمیشہ کے لئے نماز اور زکوٰۃ کا سلسلہ جاری رہے۔اور یہی ہر مومن کا کام ہے اور اس کا فرض ہے کہ جہاں وہ اپنی اولاد کی نیک تربیت سے کبھی غافل نہ ہو وہاں وہ اللہ تعالیٰ سے دُعائیں بھی کرتا رہے اور خود اُن کا معلم بنے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ ہمیشہ اسلام کا جھنڈا اونچا رکھیں۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کرتے رہیں۔فرماتا ہے اُولٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْ ا جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے اس قسم کے نیک کام کریں گے اور