تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 220
تاریخی فلم ہونے کے ناجائز ہوگی۔جغرافیائی اور تاریخی فلم سے مراد محض سچی فلم ہے جھوٹی فلم مراد نہیں۔بہرحال سینما کی وہ فلمیں جو آجکل تمام بڑے بڑے شہروں میں دکھائی جاتی ہیں اور جن میں ناچ بھی ہوتا ہے اور گانا بجانا بھی ہوتا ہے یہ ایک بد ترین لعنت ہے جس نے سینکڑوں شریف گھرانوں کے لوگوں کو گویّا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے۔میں چونکہ ادبی رسائل وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ سینما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میں عموماً ایک تمسخر ہوتا ہے اور اُن کے اخلاق اور اُن کا مذاق ایسا گندہ ہوتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔سینما والوں کی غرض تو محض روپیہ کمانا ہوتی ہے نہ کہ لوگوں کو اخلاق سکھانا۔اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ایسے لغو اور بے ہودہ افسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفا جب ان کو دیکھنے جاتے ہیں تو اُن کا اپنا مذاق بھی بگڑ تا ہے اور اُن کے بچوں اور عورتوں کا بھی مذاق بگڑ جاتا ہے جن کو وہ سینما دکھانےکے لئے ساتھ لے جاتے ہیں یا جن کو واپس آکر وہاں کے قصّے سُناتے ہیں۔غرض سینما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اگر میری طرف سے ممانعت نہ ہوتی تب بھی ہر سچے اور مخلص مومن کی روح اس سے اجتناب کر تی۔بعض احمدی پوچھتے ہیں کہ انگریزی فلموں میں تو کوئی لغوبات نہیں ہوتی۔اُن کو دیکھنے کی اجازت دی جائے۔حالانکہ کوئی انگریزی فلم ایسی نہیں ہوتی جس میں گانا بجانا نہ ہو اور گانا بجانا اسلام میں سخت منع ہے اور قرآن کریم کی اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کا بند ہ ہی نہیں بن سکتا جب تک وہ گانے بجانے کی مجلسوں سے الگ نہ ہو۔دوسری چیز جو لغویات میں امتیازی مقام رکھتی ہے قمار بازی ہے۔آجکل قمار بازی یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا نہ صرف محبوب مشغلہ ہے بلکہ اُن کے تمدن کا ایک جزو لاینفک ہوگیا ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میںجوئے کا کسی نہ کسی صور ت میں دخل ہے۔معمولی طریق کا جؤا تو مجا لسِ طعام کے بعد اُن کا ایک معمول ہے۔لیکن اس کے علاوہ لاٹریوں کی وہ کثر ت ہے کہ یوں کہنا چاہیے کہ تجارت کا کام بھی ایک چوتھائی حصہ جوئے کی نظر ہورہا ہے۔ادنیٰ سے لےکر اعلیٰ تک سب لوگ جُؤا کھیلتے ہیں۔اور کبھی کبھی نہیں قریباً روزانہ اور جوئے کی کلبیں شائد سب کلبوں سے زیادہ امیر ہیں۔اٹلی کی کلب مانٹی کارلو میں جو امراء کے جوئے کا مقام ہے بعض اوقات ایک ایک دن میں کروڑوں روپیہ بعض لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر بعض دوسرے ہاتھوں میں چلا جا تا ہے۔غرض اس قدر جوئے کی کثرت ہے کہ یہ کہنا نا درست نہ ہوگا کہ تمدنِ جدید میں سے جوئے کو نکا ل کر اس قدر عظیم الشان خلاء پیدا ہو جاتا ہے کہ اُسے کسی اور چیز سے پر نہیں کیا جا سکتا۔حالانکہ جٔوا ایسی خطرناک چیز ہے کہ اس کا عادی انسان بعض دفعہ آدھ گھنٹہ کے جُؤا کی خاطر