تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 17
پھر فرماتا ہے لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا لِیَکُوْنَ میں چونکہ ضمیر تو ظاہر کی گئی ہے لیکن اس کا فاعل ظاہر نہیں کیا گیا۔اس لئے ضمیر سے پہلے جتنی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اُن سب کی طرف اس کی ضمیر پھر سکتی ہے۔لِیَکُوْنَ سے پہلے اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر ہے جیسا کہ فرمایا تَبٰرَكَ الَّذِيْ اور قرآن کریم کا بھی ذکر ہے جیسا کہ فرمایا نَزَّلَ الْفُرْقَانَ۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر ہے جیسا کہ فرمایا عَلٰى عَبْدِهٖ۔پس چونکہ ضمیر سے پہلے ان تینوں وجودوں کا ذکر ہے اس لئے ان تینوں کی طرف لِیَکُوْنَ کی ضمیر پھر سکتی ہے اور معنے یہ بنتے ہیں کہ اُس نے یہ فرقان اس لئے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کا نذیر بن جائے یا قرآن کریم ساری دنیا کا نذیر بن جائے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے نذیر بن جائیں۔اور چونکہ ان میں سے کوئی معنے بھی اس جگہ متعذر نہیں اس لئے یہ تینوں معنے ہی یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں۔قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ کئی مقامات پر صرف ضمائر سے کام لیتا ہے اور اس طرح ایک وسیع مضمون کو چند الفاظ میں بیان کر دیتا ہے اگر یہاںلِیَکُوْنَ اللّٰہُ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا ہوتا تو دو تہائی مضمون ضائع ہو جاتا اور ایک تہائی مضمون رہ جاتا اور اگراللہ تعالیٰ فرماتا لِیَکُوْنَ الْفُرْقَانُ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا تو پھر بھی دو تہائی مضمون ضائع ہو جاتا۔اور ایک تہائی مضمون رہ جاتا۔اور اگر اللہ تعالیٰ لِیَکُوْنَ عَبْدُہٗ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا فرماتا تو بھی دو تہائی مضمون ضائع ہو جاتا اور ایک تہائی مضمون رہ جاتا۔اور اگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا کہ لِیَکُوْنَ اللّٰہُ وَالْفُرْقَانُ وَ رَسُوْلُہٗ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا تو اس طرح عبارت میں طوالت پیدا ہو جاتی اور پھر اگر یہی طریق ہر جگہ اختیار کیا جاتا تو قرآن کریم موجودہ حجم سے کئی گنا بڑا ہو جاتا۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ضمائر اور مصادر کو لا کر مضمون کی وسعت کو بھی برقرار رکھا ہے اور کلام میں اختصار بھی پیدا کر دیا ہے۔ان ضمائر کو مدنظر رکھتے ہوئے لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا میں پہلا مضمون یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ساری دنیا کا خدا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ اس کی مشیت ساری دنیاکے لئے ہو اور وہ ساری دنیا کے لئے ہدایت اور رشد کا سامان پیدا کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا میں مختلف علاقوں کی طرف علیٰحدہ علیٰحدہ انبیاء مبعوث ہوتے تھے اور چونکہ اُن کی تعلیم میں خاص خاص قوموں کو مخاطب کیا جاتا تھا۔اس لئے جہاں اُن قوموں نے اس تعلیم کی راہنمائی میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا وہاں اُن میں آہستہ آہستہ یہ خیال بھی پیدا ہوگیا کہ خدا تعالیٰ صرف ہمارا ہی خدا ہے دوسری قوموں کا نہیں۔ہاں قرآن کریم نے بائیبل کو اس الزام سے بچانے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ سورۂ شعراء میں جہاں موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا ذکر آتا ہے وہاں بتا یا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے یہی کہا کہفَاْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الشعراء :۱۷)