تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 18

یعنی فرعون کے پاس جائو اور اُسے کہو کہ ہم رب العالمین خدا کے فرستادہ ہیں جو تمہاری اصلاح کے لئے بھیجے گئے ہیں۔اس پر فرعون نے سوال کیا کہ یہ رب العالمین کو ن ہے ؟ جس کی طرف سے مبعوث کئے جانے کا تم دعویٰ کر رہے ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ (الشعراء:۲۵) رب العالمین خدا وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان پایا جاتا ہے اُن سب کا رب ہے بشرطیکہ تم اس پر ایمان اور یقین پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے رب العالمین کے الفاظ ہی نکلوائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہی تعلیم دیتے تھے کہ خدا صرف بنی اسرائیل کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا کا خدا ہے۔مگر افسوس کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے یہ نکتہ بیان کر دیا تھا۔پھر بھی یہودیوں اور عیسائیوں نے خدا تعالیٰ کو رب العالمین قرار نہیں دیا۔بلکہ مخصوص قوموں کا رب قرار دے دیا چنانچہ بائیبل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں بار بار ’’ اسرائیل کا خدا ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔جو بتاتے ہیں کہ یہودیوں کے دل و دماغ پر یہی خیال غالب رہا کہ وہ خدا جسے بائیبل پیش کرتی ہے کسی اور قوم کا خدا نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کا خدا ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔’’ خدا وند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے تجھے آج کے دن مجھ سے ملنے کو بھیجا۔‘‘ ( ۱ سموئیل باب ۲۵ آیت ۳۲) ’’ خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے ایک وارث بخشا کہ وہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہوئے آج میرے تخت پر بیٹھے۔‘‘ ( ۱۔سلاطین باب ۱ آیت ۴۸) ’’ خداوند اسرائیل کا خدا ازل سے ابد تک مبارک ہو۔‘‘ ( ا۔تواریخ باب ۱۶ آیت ۳۶) ’’ خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے مونہہ سے میرے باپ دائود سے کلام کیا۔‘‘ ( ۲۔تواریخ باب ۶ آیت ۴) ’’ خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو۔‘‘ ( زبور باب ۷۲ آیت ۱۸) غرض بائیبل صرف بنی اسرائیل کے خدا کو پیش کرتی ہے لیکن قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لو اس میں ہر جگہ یہی لکھا ہوا نظر آئےگا کہ میں ساری دنیا کا خدا ہوں۔میں جن و انس کا خدا ہوں اور میں تمام مخلوق کا رب ہوں خواہ کوئی مسلمان ہو یا ہندو ہو یا عیسائی ہو یا یہودی وغیرہ ہو۔اس تعلیم کو پڑھ کر ایک یہودی کا دل بھی یہ محسوس کرنے لگے گا کہ اس کلام کا اتارنے والا خدا اُسی طرح میرا خدا ہے جس طرح وہ مسلمانوں کا خدا ہے۔اگر ایک عیسائی قرآن کریم