تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 204
صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ؓ کی زندگیوں میں نہایت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہیں۔انہوں نے توحید کی اشاعت کے لئے وہ وہ قربانیاں پیش کیں کہ آج بھی تاریخ کے صفحات میں ان کا ذکر پڑھ کر انسانی قلب لرز جاتا ہے۔وہ خدائے واحد ویگانہ پر ایمان لانے کی وجہ سے قتل کئے گئے۔اُن کے اموال چھین لئے گئے۔اُن کی عورتوں کی آبرو ریزی کی گئی۔انہیں اپنے وطن سے بے وطن کیا گیا۔انہیں تپتی ریت پر لٹا یا گیا۔اُن کے سینوں پر بڑے بڑے بھاری پتھر رکھ کر اُن پر جوتوں سمیت کودا گیا اور انہیں لات ومنات اور عزیٰ کی پرستش پر مجبور کیا گیا مگر وہ لوگ خدا تعالیٰ کے عشق میں کچھ ایسے سرشار تھے کہ اُن کی زبانوں سے اگر کوئی فقرہ نکلا تو صرف یہی کہ خدا ایک ہے۔خودرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفّار مکہ نے یہاں تک پیشکش کی کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر نےکے لئے تیار ہیں صرف اتنا مطالبہ آپ منظور کر لیں کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہیں۔مگر اتنی بڑی پیشکش کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے مطالبہ کو نہایت حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور ایک لمحہ کے لئے بھی یہ برداشت نہ کیا کہ خدائے واحد کی توحید میں کوئی خلل واقع ہو۔بلکہ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کے اعلان سے باز نہیں رہ سکتا۔پھر آپ کی آنکھوں کے سامنے محض توحید کو تسلیم کرنے کے جُرم میں آپ کے عزیز ترین صحابہ ؓ پر بڑے بڑے مظالم توڑے گئے خود آپ کو اور آپ کے خاندان کو اُن کے پیہم مظالم کا تختہ ٔ مشق بننا پڑا۔مگر آپ نے ان تمام تکالیف کے باوجود دنیا کی ہر اُس قوم سے لڑائی کی جو توحید کی دشمن تھی۔آپ نے مشرکین مکہ کا بھی مقابلہ کیا جو سینکڑوں بتوں کے پجاری تھے۔آپ نے عیسائیوں کا بھی مقابلہ کیا جو مسیح ناصری کو ابن اللہ کہتے تھے۔آپ نے یہود کا بھی مقابلہ کیا جو عزیر کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے آپ نے مجو سیوں کا بھی مقابلہ کیا جو آگ کے پجاری تھے اور آخرعرب میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں توحید کو غالب کرکے دکھا دیا اور بتوں کے پرستاروں کو خدائے واحد کے آستانہ پر لا ڈالا۔پھر جب آپؐ کی وفات کا وقت آیا تو حدیثوں میں آتا ہے کہ آپؐ کرب واضطراب کے ساتھ کبھی ایک کروٹ بدلتے اور کبھی دوسری اور بار بار فرماتے خدا تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم و وفاتہ وقول اللہ تعالیٰ۔۔۔۔) اس طرح آپ نے صحابہ ؓ کو نصیحت فرمائی کہ دیکھنا میری قبر کو کبھی سجدہ گاہ نہ بنانا۔دیکھنا میرے بشر ہونے کے مقام کو کبھی فراموش نہ کرنا۔چنانچہ آپ کی اسی تعلیم اور تعہدکا یہ نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے ہر شہر اور ہر گائوں اور ہر قریہ میں دن کی روشنی اور رات کی تاریکیوں میں پانچ مرتبہ یہ آواز بلند ہوتی سُنائی دیتی ہے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا للّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔