تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 205
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچّے رسول ہیں۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ؓ نے توحید کا جھنڈا اتنی مضبوطی سے بلند کیا کہ وہ آج تک اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں لہرارہا اور کفار کے سینوں میں ناسُور ڈال رہا ہے۔پس عبا دالرحمٰن کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ وہ شرک کے کبھی قریب نہیں جاتے اور خدا تعالیٰ کی توحید کو زمین پر پھیلانےکے لئے ہر قسم کی جائز کوششیں عمل میں لاتے رہتے ہیں کیونکہ شرک خدا تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کے بالکل منافی ہے۔اسی طرح عباد الرحمٰن کی ایک اور علامت یہ بتائی کہ وہ کسی کو ناجائز طور پر قتل نہیں کرتے۔یہ علامت بھی اپنی پوری شان کے ساتھ ہمیں صحابہ ؓ کے مقدس وجود میں جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔وہ اس حکم پر اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایسی اقوام سے برسر پیکار رہے جو بزورِ شمشیر اُن سے اپنا مذہب بدلوانا چاہتی تھیں۔پھر بھی اُن کی تلوار صرف اُن افراد پر اُٹھتی تھی جو عملاً جنگ میں شامل ہوں کسی عورت کسی بچے کسی بوڑھے کسی راہب اور کسی پنڈت یا پادری پر نہیں اٹھتی تھی۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام صرف لڑنے والے افراد سے جنگ کرنا جائز قرارد یتا ہے دوسرے افراد کو قتل کرنا خوا ہ وہ دشمن قوم سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں جائز قرار نہیں دیتا۔آج دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں جو اپنے آپ کو عدل و انصاف کا علمبردار قرار دیتی ہیں اور جن کا وجود امنِ عالم کے قیام کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اُن کی یہ کیفیت ہے کہ وہ دشمن اقوام کو ہمیشہ ایٹمی ہتھیا ر وں سے ہلاک کرنے کی دھمکی دیتی رہتی ہیں بلکہ عملاً گذشتہ جنگِ عظیم میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں بے گناہ جاپانی مردوں اور عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اسے امنِ عالم کے قیام کے لئے ایک بڑا بھاری کارنامہ قرار دے کر اسے سراہا گیا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں کہیں ایسا ظلم دکھائی نہیں دیتا کہ برسرِ پیکار ہونے کی حالت میں بھی انہوں نے بے گناہ مردوں اور عورتوں اور بچوں کو تہ تیغ کیا ہو۔مگر یہ لاکھوں افراد کے ناجائز خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والے تو عدل و انصاف کے مجسمہ کہلاتے ہیں اور وہ مسلمان جنہوں نے اپنے پائوں تلے کبھی ایک چیونٹی کو بھی نہیں مسلا تھا انہیں یہ لوگ ڈاکو اور لٹیرا قرار دیتے ہیں۔ع بہ بیں تفاوت راہ از کجا است تابہ کُجا پھر فرماتا ہے عباد الرحمٰن کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ زنا نہیں کرتے۔اور جو کوئی ایسا کرے وہ اپنے وبال کو اس دنیا میں طرح طرح کی بیماریوں یا بدنامیوں کے ذریعہ دیکھ لےگا۔اور اگلے جہان میں جو اس کو عذاب ملےگا وہ بہت زیادہ ہوگا۔اور پھر وہاں بھی عذاب کے علاوہ بڑی بھاری رسوائی ہو گی۔ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے زنا