تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 202
کنجوس مکھی چوس ‘‘ جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ شخص ایسا بخیل ہے کہ اگر مکھی بھی اُس کے کھانے میں گِر پڑے تو یہ اُس کو بھی چوس لیتا ہے۔لیکن کنجوسی بعض نہایت معمولی اور چھوٹے چھوٹے امور کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اگر ماں باپ بچپن میں ہی کوشش کریں تو وہ اپنی آئندہ نسل کو بخل کے مرض سے بچا سکتے ہیں۔بُخل کا مرض ایک تو اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فقیر دروازہ پر آتا ہے اور وہ خیرات مانگتا ہے تو بجائے اس کے کہ اُسے ملاطفت کے ساتھ کچھ دے کر رخصت کر دیا جائے بعض لوگ غصّہ سے کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اسے کچھ نہ دیا جائے۔یہ خود کمائے اور کھائے۔چھوٹے بچے اُن کی بات سنتے ہیں تو اُن میں بھی بُخل کی عادت پید ا ہو جاتی ہے۔اسی طرح جن بچوں کو بچپن میں اجابت روکنے کی عادت ہوتی ہے اُن میں بھی بڑے ہو کر بُخل کا مرض پیدا ہو جاتا ہے۔جب وہ سمجھ دار ہو جاتے ہیں تو گو وہ اس عادت کو لغو سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں مگر بچپن کی اس عادت کا اُن کے اخلاق پر یہ اثر پڑتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر جائز مصارف میں بھی اپنا مال خرچ نہیں کرتے اور اُسے روک کر بیٹھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود بھی ہر قسم کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں اور اپنوں اور بے گانوں کی نگاہ میں بھی انہیں کوئی عزّت حاصل نہیں ہوتی۔چنانچہ قرآن کریم نے بُخل کا ایک بہت بڑا نقصان یہی بیان کیا ہے کہ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ ( محمدؐ:۳۹) یعنی جو شخص بُخل کرتا ہے اُس کا نقصان خود اُسی کو ہوتا ہے کیونکہ بُخل کی وجہ سے نہ تو وہ اچھا کھانا کھاتا ہے نہ اچھا لباس پہنتا ہے۔نہ رہائش کے لئے کوئی مکان بنانے پر آمادہ ہوتا ہے ،نہ بیمار ہونے پر دوائوں کے لئے روپیہ خرچ کرتا ہے۔نہ مصیبت میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے کام آتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی تکلیف میں زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے حلقہ میں بھی اُسے کسی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔اسی طرح جب وہ قومی کاموںکے لئے روپیہ صرف نہیں کرتا تو قوم بھی اُسے ذلیل سمجھنے لگ جاتی ہے۔لیکن خدائے رحمٰن کے بندے ان تمام عیوب سے پاک ہوتے ہیں۔وہ نہ تو اپنے روپیہ کو معصیت کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں نہ غلط طورپر خرچ کرتے ہیں اور نہ خرچ میں جائز حدود سے تجاوز اختیار کرتے ہیں جو اسراف کی مختلف شکلیں ہیں اور نہ اپنے مالوں کو اس طرح روک کر بیٹھ جاتے ہیں کہ دولت کی ہوس میں اپنے فرائض اور واجبات کو بھی ترک کر دیں۔بلکہ اُن کا روّیہ ہمیشہ میانہ روی کا ہوتا ہے اور افراط و تفریط کا عیب اُن میں نہیں پایا جاتا۔