تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 201
نے جماعت میں تحریک ِ جدید جاری کی اور اسے ہدایت کی کہ وہ ایک کھانا کھائے۔جن لوگوں کے پا س کپڑوں کے چند جوڑے موجود ہوں وہ اُن کے خراب ہونے تک محض شوق پورا کرنےکے لئے نئے جوڑے نہ بنوایا کریں۔جو لوگ نئے کپڑے زیادہ بنوایا کرتے ہوں وہ نصف یا تین چوتھا ئی یا 4/5پر آجائیں۔عورتیں اپنے اوپر یہ پابندی عائد کریں کہ وہ محض پسند پر کپڑا نہیں خریدیں گی بلکہ ضرورت پر کپڑا لیں گی۔اور گو ٹہ کناری اور فیتہ وغیرہ نہیں خریدیں گی نہ نئے نئے زیورات پر اپنا روپیہ بر باد کریں گی۔اسی طرح میں نے ڈاکٹروں سے کہا ہے کہ وہ اپنا سارا زور لگائیں کہ روپوؤں کا کام پیسوں میں ہو اور جب تک وہ یہ نہ سمجھیں کہ بغیر قیمتی دوا کے استعمال کے مریض کی جان کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے اُس وقت تک قیمتی ادویات پر روپیہ خرچ نہ کروائیں۔وہ اپنے دماغ پر زور دے کر ایسے نسخے لکھیں جو سستے داموں تیار ہو سکیں۔اور پیٹنٹ ادویہّ استعمال کراکے نئی نئی دوائوں کے تجربہ پر اپنے ملک کا روپیہ ضائع نہ کریں لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹروں نے میری یہ بات نہیں مانی اور مجھے اپنی ساری خلافت کی زندگی میں تلخ ترین تجربہ احمدی ڈاکٹروں کا ہوا ہے۔ولیمہ کے متعلق بھی میں نے ہدایت دی کہ اس موقعہ پر صرف چند دوستوں کو بُلا لینا کافی ہوتا ہے زیادہ لوگوں کو بُلا کر اپنا روپیہ ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ بھی کافی ہے کہ لوگ اپنا اپنا کھانا لا کر ولیمہ والے گھر میں بیٹھ کر کھا لیں اور ایک آدمی کا کھانا اُس گھر والے کی طرف سے بھی ہو جائے۔یہ ہدایات میں نے اسی لئے دیں کہ اس زمانہ میں اسلام کو مالی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اگر کھانے پینے پہننے اور آسائش و زیبائش کے کاموں پر ہی سارا روپیہ خرچ کر دیا جائےگا تو اسلام کی ضروریا ت کہاں سے پوری ہوںگی۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہر وقت ایک قسم کی قربانی کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ مختلف حالات میں مختلف قسم کی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر ؓ ایک خاص جنگ کے وقت اپنا سارا اور حضرت عمر ؓ اپنا آدھا مال پیش نہ کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیسیوںجنگیں ہوئی ہیں مگر حضرت ابوبکر ؓ نے ہر جنگ کے موقعہ پر اپنا سارا مال اور حضرت عمر ؓ نے اپنا آدھا مال نہیں دیا۔صرف ایک جنگ کے موقعہ پر حضر ت عمر ؓ کو یہ خیال آیا کہ آج زیادہ قربانی کا موقعہ ہے۔میں حضرت ابوبکر ؓ سے بڑھ جائوں اور اس خیال کے آنے پر وہ اپنا آدھا مال لے کر آگئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اس سے پہلے کبھی اپنا آدھا مال بھی نہیں دیا تھا۔ورنہ حضرت عمر ؓ کو یہ کس طرح خیال آسکتا تھا کہ میں اپنا آدھامال دے کر حضرت ابوبکر ؓ سے بڑھ جائو ںگا لیکن حضرت ابوبکر ؓ اس موقعہ کی نزاکت کو دیکھ کر اپنا سار امال دینے کا فیصلہ کر چکےتھے چنانچہ جب وہ اپنا سارا مال لےکر گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اُن کے گھر کی حالت سے واقف تھے اسے دیکھتے ہی فرمانے لگے کہ ابوبکر ؓ