تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 180

مانتے تھے کیونکہ اس کے ماننے سے اُن کا شرک باطل ہو جاتا تھا۔اب بھی عیسائی رحمٰن کا لفظ استعمال نہیں کرتے کیونکہ اس کے جو معنے قرآن کریم نے پیش کئے ہیں اُن سے عیسائیت کا کفارہ ردّ ہو جاتا ہے۔اور ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی کمزوریوں کو بخش دیتا ہے اور یہ کفارہ کے خلاف ہے۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ عیسائی رحمٰن کا لفظ نہیں جانتے بلکہ یہ ہیں کہ وہ اس اصطلاح کے قائل نہیں جو قرآن نے پیش کی ہے۔چنانچہ وہ اپنی کتابوں سے پہلے کبھی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نہیں لکھتے بلکہ بِسْمِ اللّٰہِ الرحیم یا بسم اللہ الہادی الجواد وغیرہ الفاظ لکھتے ہیں۔تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِيْهَا بر کت والی ہے وہ ہستی جس نے آسمان میں ستاروں کے ٹھہرنے کے مقام بنائے ہیں اور اُس میں چمکتا ہوا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِيْرًا۰۰۶۲وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ چراغ بنایا ہے اور نُور دینے والا چاند بنایا ہے۔وہی ہے جس نے رات کو اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۰۰۶۳ آنے والا بنایا ہے اُس شخص کے (فائدہ کے) لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکرگزار بندہ بننا چاہے۔حلّ لُغَات۔بُرُوْجُ۔البُرُوْجُ اَلْبُرْجُ کی جمع ہے اور اَلْبُرْجُ کے معنے ہیں اَلرُّکْنُ وَالْحِصْنُ قلعہ ،نیز محل کو بُرج کہتے ہیں ( اقرب ) اسی طرح آسمان میں ستاروں کی منازل مختصہ کو بھی بروج کہتے ہیں۔( مفردات) صاحب بحرِ محیط مشہور لُغوی ابو صالح کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ بُرج کے معنے بڑے ستارہ کے بھی ہوتے ہیں (تفسیر بحر محیط زیر آیت تبارک الذی۔۔۔)۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ اُس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے ہیں۔اَلسِّرَاجُ۔اَلسِّرَاجُ دِئیے کو کہتے ہیں جو رات کو جلایا جاتا ہے۔نیز سورج کو سراج کہتے ہیں کیونکہ وہ دن کو روشن کرتا ہے۔( اقرب ) خِلْفَۃٌ۔خِلْفَۃٌ۔اَلْخِلْفَۃُ یُقَالُ فِیْ اَنْ یُخْلِفَ کُلَّ وَاحِدٍ الْاٰخَرَ۔یعنی خِلْفَۃٌ کے معنے ایک دوسرے کے