تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 179
رَحِیْم کا لفظ تو سب کے نزدیک عربی ہے۔پس رحیم کے انکار سے صاف ظاہر ہے کہ اُن کو ان لفظوں کے عربی ہونے سے انکار نہیں تھا بلکہ اس امر پر اعتراض تھا کہ معاہدہ کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے کیوں شروع کیا گیا ہے۔عرب لوگ صرف بِسْمِ اللّٰہِ کہتے تھےاوررَحْمٰنِ رَحِیْم کی زیادتی کو اسلامی بدعت سمجھتے تھے۔اس وجہ سے انہوں نے ان دونوں لفظوں کے اضافہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنا چاہا کہ اس طرح ہم پر اسلا م کو ہماری غفلت میں مسلّط کر رہے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ سورۂ فرقان کی اس آیت میں جو اِن لوگوں نے رحمٰن کے نہ جاننے کا ذکر کیا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امر قرآن کریم سے ثابت ہے کہ عرب لوگ اس لفظ سے واقف تھے۔چنانچہ سورۂ زخرف میں کفار کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰھُمْ ( الزخرف :۲۱ ) اگر رحمٰن چاہتا تو ہم بت پرستی نہ کرتے اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار یہ لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔اور اس سے واقف تھے۔پس اس کی موجودگی میں سورۂ فرقان کی اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ گو کفاررحمٰن لفظ سے آگاہ تھے مگر بوجہ آسمانی علم سے عدم واقفیت کے وہ اس کے باریک معنوں سے ناواقف تھے جو اسلام نے پیش کئے ہیں۔یعنی بلا مبادلہ رحم کرنے والا اور چونکہ یہ معنے اُن کے عقائد کے خلاف تھے اس لئے وہ چڑ کر کہہ دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کیا ہوتا ہے۔اوراس سے اُن کی یہ مراد نہیں ہوتی تھی کہ ہم اس لفظ کو نہیں جانتے بلکہ یہ مراد ہوتی تھی کہ ہم ان معنوں کے مطابق کسی کو رحمٰن ماننےکے لئے تیار نہیں ہیں۔غرض کفار کا اعتراض لفظ رحمٰن پر نہیں تھا بلکہ اُس اصطلاح پر تھا جو قرآن کریم نے رحمٰن کے ذریعہ پیش کی تھی۔جو عربوں میں رائج نہ تھی۔جیسے صلوٰۃ عربی زبان کا لفظ ہے مگر اصطلاحی صلوٰۃ قرآن کریم نے ہی پیش کی ہے۔اس کے متعلق بھی کفار کہہ سکتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ صلوٰۃ کیا ہوتی ہے۔پس ان لوگوں کا اعتراض درحقیقت اصطلاح پر تھا اور انہوں نے یہ کہا کہ اس کا جو مطلب قرآن پیش کرتا ہے اُس کو ہم نہیں مانتے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ ( ابراہیم :۵) یعنی ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں ہی وحی دے کر بھیجا ہے۔مگر سورۂ ہود میں آتا ہے۔یَا شُعَیْبُ مَا نَفَقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ ( ہود :۹۲) یعنی کفار نے کہا کہ اے شعیب ؓ ہماری سمجھ میں تیری اکثر باتیں نہیں آتیں۔اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت شعیب ؓ کسی ایسی زبان میں باتیں کرتے تھے جسے وہ لوگ نہیں جانتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو دینی باتیں وہ بیان کرتے تھے انہیں وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے۔اسی طرح رحمٰن کا لفظ تو وہ بولا کرتے تھے مگر قرآن کریم نے رحمٰن اس ہستی کو قرار دیا ہے جو بغیر محنت کے انعام دیتی ہے اور یہ بات وہ لوگ نہیں