تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 178

کی ضرورت ہوتی ہے پہلے سے مہیا کر دیتا ہے۔ہر نئی منزل پر جو ضرورتیں ہوتی ہیں خواہ وہ مادیات کی قسم کی ہوں یا روحانیات کی قسم کی۔خواہ علمی ہوں سب کے لئے ضرورت کے مطابق پہلے سے سامان تیار کر دیتا ہے۔سائینس کے ذریعہ اب یہ ایک نئی بات معلو م ہوئی ہے کہ دماغ ایک کوٹھڑی کی طرح ہے جس میں تمام باتیں جو انسان اپنے حواس سے معلوم کرتا ہے جمع رہتی ہیں۔یہ کوٹھڑیاں یعنی سیلز اگر کسی وقت ختم ہو جائیں تو دماغ میں اَور زیادتی ہو جاتی ہے۔یہ نئی تحقیق نہایت لطیف مثال رحمانیت کی مہیا کرتی ہے۔کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کی ہر منزل پر آئندہ ترقی کے لئے سامان اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے اور ممکن نہیں کہ صحیح ضرورت ہو اور سامان موجود نہ ہو۔بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا ہے کہ رَحْمٰن کا لفظ معرب ہے یعنی کسی دوسری زبان سے عربی میں منتقل کیا گیا ہے اور مبرد جیسے ادیب نے بھی اس غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔چنانچہ ابن الانباری نے زاھر میں مبّرد کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رحمٰن عبرانی لفظ ہے عربی نہیں (ابن کثیر سورۃ الفاتحۃ)۔مگر یہ قول بالبداہت غلط ہے کیونکہ رحمٰن عبرانی کا لفظ نہیں بلکہ عربی میں قبل از بعثتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے شعراء کے کلام میں بھی اس لفظ کا استعمال پایا جاتا تھا۔چنانچہ سلامت بن جندب الطہوری کا شعر ہے؎ عَجِلْتُمْ عَلَیْنَا اِذْ عَجِلْنَا عَلَیْکُمْ وَمَا یَشَإِ الرَّحْمٰنُ یَعْقِدْ وَ یُطْلِقِ یعنی جب ہم نے تمہاری طرف جلدی کی تو تم نے ہماری طرف جلدی کی اور جو کچھ رحمٰن چاہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔( تفسیر ابن کثیر ) اصل بات یہ ہے کہ لفظ رحمٰن کی نسبت یہ شبہ کہ یہ لفظ عربی نہیں قرآن کریم کی ہی اس آیت کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے کہ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۔یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ یہ رحمٰن کو ن ہے ؟ کیا تم جسے حکم دوہم اُسے سجدہ کرنے لگ جائیں گے ؟ اور یہ بات انہیں نفرت میں اور بھی بڑھا دیتی ہے۔اس آیت سے بعض لوگوں نے دھوکا کھایا ہے کہ شاید لفظ رحمٰن عربی نہیں۔اس لئے عرب کے لوگ رحمٰن کا لفظ نہ سمجھ سکے۔اس غلط فہمی کو بخاری کی اس روایت سے مزید تقویت ہوئی کہ جب صلح حدیبیہ کے موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھنے کا حکم دیا تو کفار کے نمائندوں نے کہا کہ لَا نَعْرِفُ الرَّحْمٰنَ وَلَا الرَّحِیْمَ۔یعنی ہم نہ رحمٰن کو پہچانتے ہیں اور نہ رحیم کو۔پس یہ نہ لکھو لیکن اس حدیث کے الفاظ ہی بتاتے ہیں کہ کفار کو رحمٰن کا لفظ جاننے سے انکار نہ تھا۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم رحیم کو بھی نہیں جانتے۔حالانکہ