تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 142
اُس نے مادی دنیا میں نطفہ کے ذریعے اربوں ارب انسان پیدا کر دئیے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ جب کسی مقدس انسان پر اپنا کلام نازل کرکے اُسے دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرماتا ہے تو گو وہ بظاہر ایک حقیر وجود نظر آتا ہے اُسی طرح جس طرح نطفہ حقیر دکھائی دیتا ہے اور دنیا اُس کی ترقی کو ناممکن تصور کرتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ اسے اس قدر عظمت دیتا ہے کہ تھوڑے عرصہ میں ہی کروڑوں انسان اُس کے دامن سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک نئی روحانی نسل دنیا میں پھیلنی شروع ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ شاخ درشاخ ہو کر مختلف ممالک اور اکناف میں پھیل جاتی ہے۔یہی سلوک اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی فرمائےگا اور آپ کی تعلیم کو بھی ساری دنیا میں پھیلا دےگا۔وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَ لَا اور وہ لوگ (یعنی کافر) اللہ (تعالیٰ) کے سوا اُن کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نفع دے سکتے ہیں يَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيْرًا۰۰۵۶وَ مَاۤ اور نہ تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔اور کافر ہمیشہ اپنے رب کے (جاری کردہ سلسلوں کے )خلاف ہوتا ہے اور اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا۰۰۵۷ ہم نے تو تجھے صرف بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنےوالا بنا یا ہے۔حلّ لُغَات۔ظَھِیْرٌ۔ظَھِیْرٌکے معنے ہیں اَلْمُعِیْنَ مددگار و معاون ( اقر ب) تفسیر۔اس میں بتا یا کہ بیشک آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توحید کی تعلیم سن کر لوگ آپ کو تعجب اور انکار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر دلوں کو فتح کرنے والی تعلیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی ہے کیونکہ یہ لوگ ایسے بتوں کے آگے اپنے سر جھکا رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور انسانی عقل ایسے فعل سے بغاوت کر تی ہے جس کا نہ تو کوئی عملی زندگی میں فائد ہ ہو اور نہ اُسے چھوڑ نے سے نقصان ہو۔اس لئے لازماً جب یہ لوگ سو چیں گے انہیں بتوں کی پرستش کو ترک کرنا پڑےگا اور اس وقت جو یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے خدا سے رو گردان ہو کر اُس کے خلاف باتیں بنا رہے ہیں تو محض شرارتاً ایسا کر رہے ہیں۔ورنہ اُن کے دل بھی محسوس کر تے ہیں