تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 143

کہ وہ اندھی تقلید کا شکار ہو چکے ہیں۔اس کے مقابلہ میں محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے یعنی اس لئے مبعوث کیا ہے کہ جو لوگ آپ پر ایمان لائیں وہ ترقی کر جائیں اور جو انکار کریں وہ تباہ ہو جائیں۔ایسے شخص کا یہ مشرک کیا مقابلہ کر سکتے ہیں جن کے بت نہ انہیں نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ مخالفین کو نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہو ا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے دنیا کے بادشاہ بن گئے اوربتوں کے پرستار جنہوں نے آپ کا انکار کیا تھا اپنے بتوں کی عبادت سے نہ کوئی نفع حاصل کرسکے اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ تو اُن سے کہہ دے کہ میں تم سے اس (یعنی خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے) کا کوئی اجر نہیں مانگتا ہاں اگر کوئی شخص اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا۰۰۵۸ اپنی مرضی سے چاہے تو اپنے رب کی طرف جانے والی راہ کو اختیار کر لے (وہی میرا بدلہ ہوگا)۔تفسیر۔فرماتا ہے تو اُن لوگوں سے کہہ دے کہ میں تم سے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے بدلہ میں کسی اجر کا طالب نہیں۔میرا اجر تو صرف اتنا ہی ہے کہ اگر کسی شخص کا دل اسلام کی صداقت قبول کرنےکے لئے کھل جائے اور وہ اپنی مرضی سے اس راہ کو اختیار کرلے جو اُسے خدا تعالیٰ تک پہنچانے والی ہے تو وہ اسلام میں داخل ہو جائے اور اپنے رب کی رضا حاصل کر لے۔یہ آیت اسلام کے اس بلند ترین نظریہ کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے کہ قبول مذہب کے بارہ میں ہر شخص کو آزادی ٔ رائے کا حق حاصل ہے اور اسے اختیار ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے قبول کرے۔اس بارہ میں کسی پر جبر وتشدد کا روا رکھنا جائز نہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوئے اُس وقت عرب اور دوسرے ممالک کے لوگ مذہبی معاملات میں جبر و تشدد کو روا رکھنا بالکل جائز سمجھتے تھے لیکن قرآن کریم نے اس طریق عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ( البقرۃ :۲۵۷) یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہو نا چاہیے کیونکہ ہدایت اور گمراہی میں خدا تعالیٰ نے نمایاں فرق کر کے دکھا دیا ہے پس جو سمجھنا چاہے وہ دلیل سے سمجھ سکتا ہے اس پر جبر نہیں کر نا چاہیے۔