تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 141
تفسیر۔فرماتا ہے۔وہ خدا ہی ہے جس نے انسان کو پانی یعنی نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اُسے ددھیال اور سسرال والا بنایا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تمدن کی ترقی کا ایک بڑا بھاری ذریعہ آپس کے ازدواجی تعلقات کو قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے خاندانوں اور قوموں کے آپس میں گہرے روابط اور مضبوط تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ فلاں شیر و شکر ہو گئے۔یعنی جس طرح کھانڈ دودھ میں ملا دی جائے تو دونوں چیزیں یکجان ہو جاتی ہیں اسی طرح انسان بھی آپس میں مل جاتے اور شیرو شکر ہو جاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جو انسانوں کو آپس میں ملانے والی ہے۔اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ ذریعہ مردو عورت کی شادی ہے۔اس کے ذریعہ ایک انسان دوسرے انسان سے مل جاتا ہے ایک قوم دوسری قوم سے مل جاتی ہے بلکہ ایک ملک دوسرے ملک سے مل جاتا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ اس تعلق کے ذریعہ ایک نئی نسل جاری کر دیتا ہے۔ایک خاندان کے وہ پوتے پوتیاں ہوتے ہیں اور ایک خاندان کے وہ نواسے نواسیاں ہوتی ہیں۔اور دونوں اس میں اپنی اپنی شکل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ددھیال اور ننھیال میں تعلقات پیدا ہو جاتے ہیں۔اُن میں محبت پید ا ہو جاتی ہے اور گہرے روابط قائم ہو جاتے ہیں۔غر ض اللہ تعالیٰ نے شادی کے ذریعہ قوموں اور ملکوں کو آپس میں ملا دیا ہے۔اور اسی کے ذریعہ دنیا کو ترقی حاصل ہو تی ہے۔دو مختلف خاندانوں کو اللہ تعالیٰ ایک وجود میں اکٹھا کر دیتا ہے۔ایک خاندان جو بالکل علیٰحدہ ہوتا ہے دوسرے خاندان سے مل جاتا ہے اور اس تعلق کو اللہ تعالیٰ اس قدر مضبوط کر دیتا ہے کہ بچہ کے نانا ، نانی اُسے نواسہ کہہ کر اس پر جان دیتے ہیں۔اور دوسرے خاندان کے دادا ، دادی اسے پوتا ،پوتی کہہ کر اس پر جان دیتے ہیں۔غرض ایک ہی وجود کے ذریعہ دو الگ الگ خاندان مل جاتے ہیں بلکہ قومیں اور ملک بھی مل جاتے ہیں۔اسلام کی رُو سے ایک ہندو او ر ایک یہودی لڑکی کے ساتھ بھی نکاح ہو سکتا ہے اور گو یہ رواج آج کل نہیں ہے۔لیکن اب بھی اگر ایک مسلمان مرد ہندو لڑکی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کر لے تو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان اُسے پوتا کہہ کر جان دےگا تو دوسری طر ف ایک ہندو اُسے نواسہ کہہ کر جان دےگا۔اور آپس کے اختلافات بہت حد تک دُور ہو جائیں گے۔لیکن یہ بات تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب اسے کثرت سے رائج کیا جائے۔اور پھر بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے۔مسلمانوں میں سے صرف اکبر نے اس پر عمل کیا۔لیکن جب باقی مسلمانوں نے اس پر عمل نہ کیا تو اکبر کا کام بھی بیکار ہو کر رہ گیا اور بجائے فائدہ رساں ہونے کے مضر ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے ایک طرف تو خاندانوں میں وسعت پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف اُن کو جوڑ کر محدود کر تا ہے۔پہلے شادی کے ذریعہ ایک نئی نسل پیدا ہوتی ہے لیکن جب وہ نسل پھیل جاتی ہے تو ایک دوسرے سے اجنبی ہونے لگ جاتی ہے۔پھر اُس کو محدود کرنےکے لئے اور شادیاں کی جاتی ہیں اور وہ جو اجنبی ہونے لگ جاتے ہیں پھر قریبی رشتہ دار بن جاتے ہیں۔گویا شادی کے ذریعہ ایک طرف تو وسعت پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف تقیید پیدا ہوتی ہے اور یہ تعلق ایسا ہے جو شیر و شکر سے بڑھ کر ہے کیونکہ دودھ اور کھانڈ کے ملانے سے ایک طرف وسعت او ر دوسری طرف تقیید پیدا نہیں ہوتی۔یہ وسعت اور تقیید اللہ تعالیٰ نے صرف شادی میں ہی رکھی ہے۔اور اس احسان کی طرف اُس نے اس آیت میں توجہ دلائی ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے۔وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا۔اور تیرا رب بڑی طاقتیں اور قوتیں رکھنے والا ہے لیکن جس طرح اُ