تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 133
موقعہ ہے تو آج کا روزِبد انہیں نہ دیکھنا پڑتا۔اگر مسلمان اس تعریف کو سمجھتے تو اسلام کے ظاہری غلبہ کے موقعہ پر وہ جہاد کے حکم کو ختم نہ سمجھتے بلکہ انہیں خیال رہتا کہ صرف ایک قسم کا جہاد ختم ہوا ہے دوسری اقسام کے جہاد ابھی باقی ہیں۔اور تبلیغ کا جہاد شروع کر دیتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ نہ صرف اسلام مشرقی ممالک میں پھیل جاتا بلکہ یورپ بھی آج مسلمان ہوتا اور اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اسلام کو زوال نہ آتا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کے مواقع بتائے ہیں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تلوار کا جہاد دائمی طور پر ممنوع ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں شریعت کے مطابق کس جہاد کا موقع ہے اور خود بڑے زور سے اس جہاد کو شروع کر دیا اور تمام دنیا میں تبلیغ جاری کر دی۔اگر تلوار کا جہاد ہی ضروری تھا تو سوا ل یہ ہے کہ کیا ہر مسلمان نے تلوار اُٹھا کر کفار کا مقابلہ کیا ؟ اگر نہیں کیا تو احمدی تو خدا تعالیٰ کویہ جواب دے دیں گے کہ ہمارے نزدیک یہ جہاد بالسیف کا وقت نہیں تھا اگر ہم نے غلطی کی تو ہماری غلطی اجتہادی تھی لیکن اُن کے مخالف مولوی کیا جواب دیں گے۔کیا وہ یہ کہیں گے کہ اے خدا ! جہاد کا تو وقت تھا اور ہم یقین رکھتے تھے کہ یہ جہاد کا وقت ہے اور ہم سمجھتے تھے کہ جہاد فرض ہو گیا ہے لیکن اے ہمارے خدا ! ہم نے جہاد نہیں کیا کیونکہ ہمارے دل ڈرتے تھے۔اور نہ ہم نے اُن لوگوں کو جہادکے لئے آگے بھجوایا جن کے دل نہیں ڈرتے تھے کیونکہ ہم ڈرتے تھے کہ ایسا کرنے سے بھی کفار ہم کو پکڑ لیں گے۔اب اس امر کافیصلہ ہر منصف مزاج انسان خود کر سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں جوابوں میں سے کون سا جواب خدا تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاد کی اس تعریف سے نہ صرف آئندہ کے لئے مسلمانوں کو بیدار کر دیا ہے اور اُن کے لئے ترقی کا ایک عظیم الشان راستہ کھو ل دیا ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک بہت بڑے گنا ہ سے بھی بچا لیا ہے۔کیونکہ گو مسلمان یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا ہے لیکن اُسے فرض سمجھ کر اس پر عمل نہیں کرتے تھے اور اس طرح اس احساسِ گناہ کی وجہ سے گنہگار بن رہے تھے۔اب آپ کی تشریح کو جوں جوں مسلمان تسلیم کرتے جائیں گے اُن کے دلوں پر سے احساسِ گناہ کا زنگ اُترتا جائے گا اور وہ محسوس کریں گے کہ انہوں نے تلوار کا جہاد نہ کر کے خدا اور اُس کے رسول سے غّداری نہیں کی اور یہ کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے انہیں تبلیغ کی طرف توجہ دلا کر اُن پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔