تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 132
’’ ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح ؑ بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہر ی الفا ظ صادق آسکیں۔کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیادرویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے ، ممکن ہے کہ کسی وقت اُن کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے۔‘‘( ازالہ اوہام ،روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۷،۱۹۸) پس بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاد کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو قرآن کریم نے دی ہے۔اور آپ کے زمانہ میں جس جہاد کو ملتوی کیا گیا ہے وہ جہاد بالسیف ہے کیونکہ موجودہ زمانہ میں وہ حالات نہیں ہیں جن میں جہاد بالسیف ضروری ہوتا ہے لیکن جہاد بالسیف سے زیادہ تاکیدی حکم جہاد بالقرآن کا ہے جس میں آپ ساری عمر مشغول رہے اور جس کی طرف اس آیت میں توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا یعنی قرآن کریم کے ساتھ تم غیر مسلموں کا مقابلہ کر و اور یہی بڑا جہاد ہے۔چنانچہ اس آیت کے ماتحت تفسیر روح المعانی جلد ۶ صفحہ ۱۶۲ پر لکھا ہے۔’’ اَیْ بِالْقُرْاٰنِ وَذٰلِکَ بِتِلَاوَۃٍ مَا فِیْہِ مِنْ الْبَرَاھِیْنِ وَالْقَوَارِعِ وَالزَّوَاجِرِ وَالْمَواعِظِ وَتَذْکِیْرِ اَحْوَالِ الْاُمَمِ الْمُکَذِّبَۃِ فَاِنَّ دَعْوَۃَ کُلِّ الْعَالَمِیْنَ عَلیَ الْوَجْہِ الْمَذْکُورِ جِھَادٌ کَبِیْرٌ۔‘‘یعنی اس جگہ جہاد سے مراد قرآن کریم کے ذریعہ جہاد کرنا ہے اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں جو براہین اور کفر کے خلاف باتیں ہیں اسی طرح جن خلافِ اخلاق امور پر زجر کیا گیا ہے اور جو جو نصائح کی گئی ہیں اُن سب کو پڑھا جائے اور نبیوں کی منکر اُمتوں کے احوال بیان کر کے لوگوں کو نصیحت کی جائے کیونکہ دنیا کے تمام انسانوں کو اسی طریق سے اسلام کی طرف بلانا ہی سب سے بڑا جہاد ہے۔(تفسیر روح المعانی زیر آیت و جاھدھم بہ)۔غرض جہادکا لفظ جس کو عیسائیوں نے ہو اسمجھ رکھا ہے اصل میں تبلیغ کا ہی ایک نام ہے اور اصل جہاد تلوار کا جہاد نہیں بلکہ اصل جہاد وہ ہے جو قرآ ن کریم کے ذریعہ کیا جائے۔یعنی جس جہاد میں دلائل استعمال کئے جائیں اور آسمانی نشانات و معجزات کے ذریعہ دلوں کو فتح کیا جائے۔مگر افسوس کہ مسلمان صرف تلوار چلانے کانام جہاد سمجھتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب انہیں غلبہ حاصل ہو گیا تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور کفر دنیا میں موجود رہا۔اگر مسلمان جہاد کی وہ تعریف جانتے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی ہے کہ جہاد ہر اُس فعل کا نام ہے جو نیکی اور تقویٰ کے قیام کے لئے کیا جائے۔اور جہاد جس طرح تلوار سے ہوتا ہے اُسی طرح اصلاحِ نفس سے بھی ہوتا ہے اور اسی طرح تبلیغ اسلام سے بھی ہوتا ہے اور اسی طرح مال و دولت کی قربانی سے بھی ہوتا ہے۔اور ہر قسم کے جہاد کا الگ الگ