تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 134

وَ هُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو چلایا ہے جن میں سے ایک تو بہت میٹھا ہے اور دوسرا نمکین (اور) کڑوا ہے۔وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا اور اُس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) ان دونوں کے درمیان ایک روک بنا دی ہے۔اور ایسا سامان بنایا ہے کہ وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۰۰۵۴ وہ ایک دوسرے کو پرے رکھتے ہیں ملنے نہیںدیتے۔حلّ لُغَات۔مَرَجَ۔مَرَجَ مَرَجَ اللّٰہُ الْبَحْرَیْنِ الْعَذْبَ وَالْمِلْحَ کے معنے ہیں خَلَطَھُمَا حَتّٰی الْتَقَیَا۔دوسمندروں کو آپس میں ملایا۔وَقِیْلَ خَلَّھُمَا لَایَلْتَبِسُ اَحْدَھُمَا بِالْاٰخَرِ۔اور بعض عربی زبان کے ائمہ کہتے ہیں کہ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ کے معنے ہیں کہ دو سمندروں کو اس طور پر چلایا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل نہیں سکتے۔(اقرب) فُرَاتٌ : اَ لْفُرَاتُ اَ لْمَآءُ الْعَذْبُ جِدًّا۔فُرات کے معنے نہایت شیریں پانی کے ہیں۔اَوِ الَّذِیْ یَکْسِرُ الْعَطَشَ لِفَرْطِ عُذُوْبَتِہٖ۔یا اُس پانی پر فرات کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو اپنی مٹھاس کی تیزی کی وجہ سے پیاس کی شدت اور تلخی کو ختم کرکے سکون دے دے۔( اقرب) تفسیر۔مَرَجَ کے معنے جیسا کہ اوپر بتا یا جا چکا ہے ملا دینے کے ہوتے ہیں۔پس ھُوَالَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ کے یہ معنے ہوئے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے دوسمندر دنیا میں ملا دئیے ہیں جن میں سے ایک تو اپنی خاصیت کے لحاظ سے انتہائی میٹھا ہے اور اس کا پانی انسان کے لئے تسکین بخش ہے اور دوسرا نمکین اور کڑوا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ دونوں سمندر ملا دئے گئے ہیں پھر بھی اُن دونوں کے درمیان ایک فاصلہ پایا جاتا ہے جو اُن دونوں کو جد ا جدا رکھتا ہے۔دنیا میں قاعدہ ہے کہ جب میٹھی اور نمکین چیز ملائی جائے تو ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جو اُن دونوں سے مختلف ہوتی ہے۔جیسے بعض لوگ میٹھی چائے میں نمک ملا لیا کرتے ہیں۔میں ایسی چائے کو ہمیشہ منافق چائے کہا کرتا ہوں اور مجھے اس سے بڑی نفرت ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ پانی منافق نہیں ہوںگے بلکہ باوجود اس کے کہ وہ