تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 112

تو اللہ تعالیٰ نے اُسے تباہ کر دیا۔یہی حال ثمود کا ہوا جس نے قوم عاد کی جگہ لی تھی۔اس قوم کا مرکزی مقام حجر تھا جو مدینہ منوّرہ اور تبوک کے درمیان تھا۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ تبوک پر تشریف لے گئے تو آپ تھوڑی دیر کے لئے اس مقام پر بھی ٹھہرے تھے مگر آپ نے صحابہ ؓ کو حکم دے دیا کہ کوئی شخص اس جگہ سے کنوئوں کا پانی استعمال نہ کرے۔بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو اس پانی سے اپنے آٹے گوندھ چکے ہیں۔آ پ نے فرمایا۔وہ آٹا یہیں پھینک دو کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو چکا ہے ( بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ عزّوجل والی عاد اخاھم صالحًا) پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اصحاب الرس کو بھی ہلاک کیا۔اصحٰب الرس کے بارہ میں مفسرین میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔لیکن اس آیت سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ قوم ثمود کے بعد ہوئی ہے کیونکہ وَقُرُوْنًا بَیْنَ ذٰلِکَ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ترتیب مدنظر ہے اور بحرِ محیط نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔کیونکہ اُس میں حضرت ابن عبا س ؓ کا یہ قول لکھا ہے کہ یہ قوم ثمود کا حصہ تھی ( تفسیر بحر محیط زیر آیت وعاد وّ ثمود و اصحاب الرس) اور چونکہ ثمود عاد کا آخری حصہ تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ثمود کی قائم مقام تھی۔اور نسلِ اسماعیل ؑ کے عرب میں پھیلنے سے پہلے یہ لوگ ہوئے ہیں۔جب نسل اسماعیل ؑ عرب میں پھیل گئی تو پھر یہ لوگ فلسطین کی طرف چلے گئے جیسا کہ قدیم آثار سے پتہ چلتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان گذشتہ اقوام کی مثالیں پیش کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے بد نتائج سے لوگوں کو ڈرایا ہے اور انہیں بتا یا ہے کہ اگر تم نے اصلاح نہ کی تو جو حال موسیٰ ؑ اور نوح ؑ اور ہود ؑ اور صالح ؑ کے جھٹلانے والوں کا ہوا وہی حال تمہارا ہوگا اور تم بھی اس صفحہ ٔ ہستی سے معدوم کر دئیے جائو گے۔وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِيْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ اوریہ( مکہ کے کفار )اس بستی کے پاس سے گذر چکے ہیں جس پر ہم نے ایک تکلیف دہ بارش نازل کی تھی۔يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ نُشُوْرًا۰۰۴۱وَ اِذَا کیا یہ اس( بستی کے نشانوں )کو نہیں دیکھتے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ دوبارہ اُٹھنے کی اُمید ہی نہیں رکھتے تھے۔