تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 111

غرض اس عقیدہ کو قرآن کریم کی متعدد آیات رد کررہی ہیں اور حق یہی ہے کہ حضرت ہارون ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے تابع نبی تھے۔حضرت موسیٰ کی قوم ہی ان کی قوم تھی اور اُن کی کوئی الگ جماعت نہ تھی نہ الگ احکام تھے نہ کم نہ زیادہ۔حضرت موسیٰ ؑ کی مددکے لئے انہیں مقرر کیا گیا تھا اور آل ہارون ؑ سے یا تو اُن کے وہ رشتہ دار مُراد ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے رشتہ دار نہ تھے مثلاً بیویوں یا بہوئوں کی طرف سے رشتہ دار۔یا ایک ہی قوم مراد ہے۔صرف دونوں کی اصلاحِ خلق کی خدمات کے اظہارکے لئے دونوں کا ذکر کر دیا گیا ہے۔موسیٰ ؑ کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ موسیٰ سے اوپر چلو تو نوح ؑ کی قوم کی مثال دیکھ لو۔وہ بھی موسیٰ ؑ کی طرح ہمارا ایک شرعی رسول تھا مگر جب اس کی قوم نے ہمارے رسولوں کا انکار کیا تو ہم نے اس کو غرق کر دیا۔اور اُسے لوگوںکے لئے ایک نشان بنا دیا۔اس جگہ نوح ؑکے لئے رُسُل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ وہ صرف ایک رسو ل تھے اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی ایک رسول کا بھی انکار کیا جائے تو چونکہ تمام انبیاء منہاجِ نبوت کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے ہیں اور جو دلائل کسی ایک نبی کی صداقت ثابت کرتے ہیں وہی دلائل دوسرے نبی کی صداقت بھی ثابت کرتے ہیں اس لئے ایک نبی کا انکار سب نبیوں کا انکار ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے وہ شخص جس نے آم کھایا ہوا ہو وہ آم دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ یہ آم نہیں ہے بلکہ خربوزہ ہے۔مگر جس نے آم نہ دیکھا ہو وہ اُسے دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ یہ آم ہے۔اسی طرح جو شخص انبیاء کی صداقت کو صحیح طور پر پہچانتا ہو اور اُن کے دلائل اور نشاناتِ صداقت سے آگاہ ہو۔وہ جب بھی کسی سچے نبی کو دیکھے گا اُسے پہچان لے گا اور اُس پر ایمان لے آئےگا۔لیکن جو شخص کہتا تو یہ ہے کہ میں سب نبیوں کو مانتا ہوں لیکن بعد میں آنے والے وہ کسی رسول کا انکار کر دیتا ہے وہ اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کر تا ہے کہ اُس نے کسی نبی کو بھی نہیں پہچانا تھا۔پس اُس کا انکار کسی ایک رسول کا نہیں بلکہ تمام رسولوں کا انکار کہلاتا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ بعض اور قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس کو بھی ہلاک کیا اور اُن کے درمیان اور بھی بہت سی قومیں ہمارے عذاب کا نشانہ بنیں۔ان میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے اپنے انبیاء کے ذریعہ حقیقت حال کو کھول کر بیان کر دیا تھا مگر جب انہوں نے سچائی کو مٹانا چاہا تو پہلی قوموں کی طرح ہم نے انہیں بھی تباہ کر دیا۔عاد ایک بہت بڑی قوم تھی جو تمام شمالی اور جنوبی عرب پر قابض تھی۔قرآن کریم نے عاد کا زمانہ قوم نوح ؑ کے بعد بتا یا ہے ( اعراف ع ۹) اور اس کی طاقت کو لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ( الفجر :۹) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ اُن بلاد میں اُس جیسی طاقتور اور کوئی قوم نہیں تھی مگر اُس قوم نے بھی جب ہود ؑکا مقابلہ کیا