تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 113

َاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ اور جب وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے صرف ایک ہنسی ٹھٹھے کی چیز سمجھتے ہیں( اور کہتے ہیں) رَسُوْلًا۰۰۴۲اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا کیا اللہ( تعالیٰ) نے اس شخص کو رسول بنا کر بھیجا ہے ! اگر ہم اپنے معبودوں پر قائم نہ رہتے تو یہ( شخص) تو ہم کو عَلَيْهَا١ؕ وَ سَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ ان سے گمراہ کرنے ہی لگا تھا۔اور جب یہ عذاب کو دیکھیں گے تو اُن کو ضرور حقیقت معلوم ہو جائے گی اَضَلُّ سَبِيْلًا۰۰۴۳ کہ کون اپنے طور و طریق میں زیادہ گمراہ تھا۔تفسیر۔اب فرماتا ہے کہ یہ مشرک اپنے سفروں میں اس بستی کے پاس سے گذر تے ہیں جس پر ہم نے تکلیف دہ بارش نازل کی تھی مگر پھر بھی وہ اس کو دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتے۔اس جگہ قریہ سے مراد قوم لوط ؑ کی بستی ہے اور اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْئِ سے یہ مراد ہے کہ زلزلہ سے خدا تعالیٰ نے اُن کی زمین کو تہ و بالا کر دیا۔جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَجَعَلْنَا عٰلِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ( الحجر :۷۵)یعنی ہم نے اُس کی اوپر والی سطح کو نچلی سطح بنا دیا اور اُن پر سنگریزوں سے بنے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی۔اَتَوْا عَلیَ الْقَرْیَۃِ۔سے یہ مراد ہے کہ جب یہ لوگ اپنی تجارتی اغراض کے لئے حجاز سے شام جاتے ہیں تو عین راستہ پر انہیں قوم لوط ؑ کی بستی دکھائی دیتی ہے۔اس بستی کی عبرتناک تباہی کو دیکھ کر چاہیے تھا کہ اُن کے دل لرز جاتے اور یہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو قبول کر لیتے۔مگر یہ ایسے سخت دل لوگ ہیں کہ ان کھنڈرات کو دیکھنے کے باوجود کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کرتے چلے جاتے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ اُن کے اس انکار کی وجہ بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے۔بَلْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ نُشُوْرًا۔اس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو جزاو سزا پر کوئی ایمان نہیں اور اس وجہ سے یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم