تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 109
حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ کے باہمی تعلقات کا علم قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات سے واضح ہو جاتا ہے۔اوّل قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون ؑ کو نبوت کے مقام پر فائز کرنے کے متعلق خود حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی اور ان الفاظ میں کی تھی کہ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ھَارُوْنَ اَخِی اشْدُدْبِہٖ اَزْرِیْ وَاَشْرِکْہُ فِیْ اَمْرِیْ ( طٰہٰ:۳۰۔۳۱)یعنی اےمیرے خدا! میرے اہل میں سے ایک میرا نائب مقرر کر۔یعنی میرے بھائی ہارون کو اور اُس کے ذریعہ سے میری قوت بڑھا اور اُسے میرے امر میں شریک کر۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے نبی کے لئے دعا کر رہے ہیں جو اُن کا وزیر ہو اور جو اُن کی طاقت بڑھانے والا ہو۔اور پھر صاف فرماتے ہیں کہ میرے امر میں اسے شریک کر۔یعنی سلسلہ تو میرا ہی ہو گا اس کا نہیں ہوگا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ اس کام کو چلانے میں میرا مدد گار اور شریکِ کار ہو۔کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو موسیٰ ؑ کی دُعا ہے۔خدا تعالیٰ نے نہ معلوم اس کو قبول کیا یا نہ کیا۔سو اس کا جواب بھی اسی سورۃ میں موجود ہے۔کیونکہ ایک دو آیات چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کا جواب بھی نقل ہے۔جو یہ ہے کہ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤ لَکَ یَامُوْسیٰ (طٰہٰ:۳۷)۔یعنی اے موسیٰ ! تیری التجا قبول کی جاتی ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑنے جو کچھ مانگا تھا وہی کچھ خدا نے ان کو دیا۔اور حضرت ہارون ؑ کو وہی مقام ملا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طلب کیا تھا۔پس حضرت ہارون کی حیثیت باوجود ایک نبی ہونے کے اُن کے نائب اور اُن کے کام میں مددگار کی تھی نہ کہ کچھ اور۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں مستقل نبی اور دوسرے نبی کا تابع نہیں ہو سکتا۔یہ دونوں عہدے قطعی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔اس مضمون پر ان تعلقات کی تفصیل سے بھی خوب روشنی پڑتی ہے جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ کے درمیان تھے اور جن کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے مثلاً سورۂ اعراف ع ۱۷ میں ہے وَقَالَ مُوْسیٰ لِاَ خِیْہِ ھٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِی وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ(الاعراف:۱۴۳)۔یعنی موسیٰ ؑ نے اپنے بھائی سے پہاڑ پر جاتے ہوئے کہا کہ تم میرے بعد میری قوم میں میرے نائب کی حیثیت سے کام کر و۔اور اصلاح کو ہمیشہ مدنظر رکھو۔اور شریروں کی باتیں نہ ماننا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ امت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اُمت قرار دیتے ہیں اور سرداری اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے حضرت ہارون ؑ کو اپنا خلیفہ مقرر کرتے ہیں۔شاید یہ کہا جائے کہ حضرت ہارون ؑ اپنی قوم پر تو حاکم تھے ہی حضرت موسیٰ نے مزید یہ درخواست اُن سے کی ہے کہ میری قوم کے کام بھی میرے