تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 108

تفسیر۔اب بتاتا ہے کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کی دوسروں پر ذمہ داری ڈالنے سے کوئی انسان اپنے جرم کی سزا سے نہیں بچ سکتا کیونکہ ابتدائے آفرنیش سے ہم لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے انبیاء مبعوث کرتے رہے ہیں۔اور اُن کی تائید میں اپنے نشانات بھی دکھاتے رہے ہیں اگر اس سلسلۂ رسالت سے لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے تو اُن کا یہ کہنا کہ ہمیں تو اپنے لیڈروں نے بہکا دیا تھا اُن کے جرم کو ہلکا نہیں کر سکتا۔چنانچہ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرماتا ہے جن کی شریعت یہودکے لئے قریبًا دو ہزار سال تک قابلِ عمل رہی۔اور فرماتا ہے کہ دیکھو ہم نے موسیٰ ؑ کو تورات دی اور اُس کے ساتھ اُس کے بھائی ہارون ؑ کو اُس کا نائب بنایا۔اور پھر ہم نے اُن دونوں کو کہا کہ تم فرعون اور اس کی قوم کے پا س جائو اور انہیں ہمارا پیغام پہنچائو۔مگر فرعون اور اس کی قوم نے ہماری آیات کا انکار کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور موسیٰ ؑ کو غلبہ عطا کیا۔اس جگہ وَجَعَلْنَا مَعَہٗ اَخَاہٗ ھَارُوْنَ وَزِیْرًا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی حیثیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک تابع کی تھی مگر بعض لوگ جو حقائق پر پوری طرح غور کر نے کے عادی نہیں اور صرف سطحی نظر سے قرآنی آیات کو دیکھتے ہیں انہو ں نے قرآ ن کریم کی بعض آیات سے یہ دھوکہ کھایا ہے کہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ دونوں صاحبِ کتاب اور صاحبِ اُمت نبی تھے۔اُن کا صاحب اُمت ہونا تو وہ اس آیت سے ثابت کرتے ہیں جس میں جدعون کے متعلق اُن کے زمانہ کے نبی نے خبر دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ ( البقرۃ :۲۴۹) یعنی اُس کی حکومت کا نشان یہ ہے کہ تمہیں ایک تابوت ملے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین ہوگی اور اُس چیز کا بقیہ ہوگا جو موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کی آل نے اپنے پیچھے چھوڑا اور دونوں کا صاحبِ کتاب ہونا وہ اس آیت سے ثابت کرتے ہیں کہ وَ اٰتَيْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ(الصّفّت:۱۱۸) یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک کامل کتاب دی جو تمام احکام کو کھول کھول کر بیان کرتی تھی۔حالانکہ آل موسیٰ ؑ و آل ہارون ؑ کہنا دونوں کی الگ الگ جماعتوں کا کوئی ثبوت نہیں۔ایک ہی جماعت آل موسیٰ ؑ بھی کہلا سکتی ہے اور آل ہارون ؑ بھی اور پھر آل سے مراد متعلقین بھی ہو سکتے ہیں۔باقی رہا کتاب کا ذکر۔سو کتاب تو یقیناً ہارون ؑ کو بھی ملی۔لیکن کتاب ملنے کے یہ معنے نہیں کہ اُن کو کوئی مستقل کتاب ملی تھی بلکہ جو کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملی وہی حضر ت ہارون ؑ کے لئے بھی تھی جیسے وہ کتاب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی وہ ہمارے لئے بھی ہے۔مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم اہل کتاب ہیں۔اسی طرح ہارون ؑ بھی اہل کتاب تھے مگر اُن پر کتاب نازل نہیں ہوئی۔