تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 110

پیچھے تم کر دینا۔لیکن اوّل تو اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب یہ الگ الگ قوموں کی طرف نبی تھے تو اکٹھے کیوں رہتے تھے ؟ دوسرے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ان کی قومیں کس اصول پر مقرر تھیں۔اگر تو ہارون ؑ کسی اور خاندان سے ہوتے تو کہا جا سکتا تھا کہ اپنی اپنی قوم اُن پر ایمان لائی تھی لیکن یہ دونوں تو بھائی تھے پھر موسیٰ ؑ کی قوم الگ کس اصول پر تھی اور حضرت ہارون ؑ کی کس اصول پر۔کیا دن مقرر تھے کہ فلاں دن بیعت کرنےوا لا موسیٰ ؑ کی کتاب پر ایمان لائے اور فلاں دن بیعت کو آنےوالا ہارون ؑ کی کتاب پر ایمان لائے ؟ یا قومیں الگ الگ بانٹی ہوئی تھیں۔یا یہ تھا کہ جو چاہے موسیٰ ؑ کی بیعت کر ے اور جو چاہے ہارون ؑ کی بیعت کرے۔آخر ایک ماں کے دوبیٹے جو اکٹھے رہتے تھے اُن کی الگ الگ اُمتیں کس اصول پر بنائی گئی تھیں ؟ پھر یہ بھی سوال ہے کہ قرآن کریم یہ فرماتا ہے وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسیٰ مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ حُلِیِّھِمْ عِجْلًا جَسَدً الَّہٗ خُوَارٌ (الاعراف :۱۴۹ ) یعنی موسیٰ ؑکے بعد موسیٰ ؑکی اُمت نے بچھڑا بنا لیا تھا۔کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ حضرت ہارون کی اُمت نے بچھڑا نہیں بنایا تھاکیونکہ قرآن صرف قوم موسیٰ ؑ کے بگڑنے کا ذکر کرتا ہے ہارون ؑ کی امت کے بگڑنے کا ذکر نہیں کرتا۔اور اگر یہ درست ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ حضرت ہارون ؑ نے اپنی قوم کا زیادہ خیال رکھا اور موسیٰ ؑ کی قوم کا چنداں خیال نہ کیا۔پھر اس کے آگے ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ حضرت ہارون ؑپر ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کہ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ (الاعراف :۱۵۱) اے میری ماں کے بیٹے۔قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور مجھے قتل کرنے لگے تھے۔اگر حضرت ہارون ؑ کی الگ اُمت تھی تو سوال یہ ہے کہ وہ اُمت کہاں گئی ہوئی تھی اور کیوں اس نے ہارون ؑ کی اس موقعہ پر مدد نہ کی۔کیونکہ اگر ہارونی امت الگ تھی تو قرآن کے الفاظ کے مطابق وہ نہیں بگڑی تھی بلکہ اپنے ایمان پر قائم رہی تھی۔اس قابلِ اعتراض عقیدہ کی وجہ سے ایک اور مشکل بھی پیش آتی ہے جو یہ ہے کہ دوسری جگہ حضرت ہارون ؑ کا یہ قول نقل ہے کہ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ۔قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى ( طٰہٰ :۹۱۔۹۲) یعنی حضرت ہارون ؑنے حضرت موسیٰ ؑکے واپس آنے سے بھی پہلے اُن سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم ! تم کو اس بچھڑے کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا گیا ہے اور تمہارا رب تو رحمٰن خدا ہے۔پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کو مانو۔مگر قوم نے کہا کہ جب تک موسیٰ ؑہماری طرف واپس نہ آئے ہم برابر اس کی عبادت کرتے رہیں گے۔ان آیات میں حضرت ہارون ؑ بگڑنے والی قوم کو اپنی قوم کہتے ہیں۔اگر کہا جائے کہ یہ قول انہوں نے اپنی امت سے کہا تھا۔تو پھر یہ مشکل پیش آتی ہے کہ اُن کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کے آنے تک ہم اس کام کو نہیں چھوڑ یں گے تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ امت تو وہ ہارون ؑ کی تھی لیکن بات موسیٰ ؑ کی مانا کرتی تھی۔