تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 99
اور ہر دن جو آپؐ پر چڑھا اُس نے آ پ کے ایمان اور عرفان کو اور بھی بڑھا دیا۔پھر فرماتا ہے۔وَ رَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ہم نے اس قرآن کی ترتیب بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی رکھی ہے یعنی نزولِ قرآن تو اس رنگ میں ہوا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوںکے لئے ضروری تھا لیکن بعد کی دائمی ترتیب ہم نے اور طرح رکھی ہے تاکہ آنے والے لوگ اپنے حالات کے مطابق اس سے فائدہ اٹھائیں۔یہ ترتیب بھی اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان نے نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود نازل کیا ہے۔اگر اس کتاب کی تصنیف میں کسی انسان کا دخل ہوتا تو وہ اس کی ایک ہی ترتیب رکھتا اور جس قسم کے حالات اُسے پیش آتے اُن کے مطابق وہ ایک کتاب تصنیف کرتا چلا جاتا مگر قرآن کریم چونکہ عالم الغیب خدا کی طرف سے نازل ہوا تھا اور قیامت تک آنے والے تمام لوگوںکے لئے ایک مستقل ہدایت نامہ تھا۔اس لئے اُس نے اپنی حکمت ِ کاملہ کے ماتحت اس کے نزول کی ترتیب اور رنگ میں رکھی۔اور اس کی تحریر کی ترتیب اَور رنگ میں رکھی۔نزول کی ترتیب تو اُس زمانہ کے اوّلین مخاطبوں کے وساوس و شبہات کے ازالہ اور اُن کے مسائل کو حل کرنےکے لئے رکھی گئی۔اور بعد کی ترتیب اُن لوگوںکے لئے رکھی گئی جنہوں نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے کی وجہ سے مذہب سے بہت حد تک واقف ہونا تھا یا جن کے لئے مسلمانوں کی ایک قائم شدہ جماعت کو دیکھتے ہوئے وہ مسائل کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے جن مسائل پر شروع میں بحث کرنا ضروری تھا۔مثلًا تمام محدث اور مؤرخ اس بات پر متفق ہیں کہ پہلی آیت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ اِقْرَاْ بِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ کی تھی(بخاری کتاب الوحی باب کیف کان بدءالوحی)۔حالانکہ موجودہ قرآن میں وہ سب سے آخری پارہ میں ہے اور آخری پارہ کے بھی آخری حصہ میں ہے اب کجا سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت اور کُجا قرآن کے سب سے آخری پارہ میں اور آخری پارہ کے بھی آخری حصہ میں اس کا رکھا جانا یہ بتاتا ہے کہ الٰہی حکمت کے ماتحت قرآن کریم کی دو ترتیبیں ضروری تھیں۔ایک ترتیب تو وہ تھی جو ابتدائی مسلمانوں کے لحاظ سے اُن کے مناسب حال تھی۔اور ایک ترتیب وہ تھی جو آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لحاظ سے جب قرآن مکمل ہو چکا تھا مناسب حال تھی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں صرف اِقْرَاْ کہا۔اِقْرَاَالْکِتَابَ نہیں کہا کیونکہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے اِقْرَأ فرمایا تھا اُس وقت کوئی کتاب موجود نہیں تھی مگر جب سورۂ بقرہ نازل ہوئی تو اُس وقت تک کتاب نازل ہو چکی تھی۔اور بہت سی سورتیں مکّہ مکرمہ میں مکمل ہو چکی تھیں۔خود اِقْرَاْ و الی سورۃ بھی نازل ہو چکی تھی۔اور سورۃ بنی اسرائیل بھی نازل ہو چکی تھی اور سورۃ کہف ، مریم اور طٰہٰ وغیرہ بھی نازل ہو چکی تھیں۔پس اُس وقت ذٰلِکَ الْکِتَابُ کہنا بالکل درست تھا اور لوگوں کی سمجھ میں