تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 98
اور محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے رسول ہیں۔اس کے بعد عمل کی دعوت کا موقعہ تھا جس کے لئے احکام سکھائے جاتے مگر اب یہ ترتیب ضروری نہیں ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ماننے والی ایک بڑی بھاری جماعت موجود ہے۔اب جو شخص بھی اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور اسلام کی خوبیوں سے واقف ہو کر آتا ہے اس لئے اُس کے لئے قرآن کریم کی اُسی ترتیب کی ضرورت ہے جو اب ہے۔پس قرآن کے ایک ہی دفعہ نازل ہونے سے یہ نقص پیش آتا کہ اُس کی موجودہ ترتیب اس زمانہ کے لوگوں کو سمجھ میں ہی نہ آسکتی مثلًا اگر سورۂ بقرہ شروع میں ہی نازل ہو جاتی تو ذٰلِکَ الْکِتَابُ کو کون مسلمان سمجھ سکتا۔وہ تو یہ الفاظ سن کر حیران ہو جاتا اور کہتا کہ کتاب تو کوئی ہے ہی نہیں پھر اس میں کس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کو ہر مسلمان اس وقت سمجھ سکتا تھا جس طرح آج ذٰلِکَ الْکِتَابُ کو ہر مسلمان سمجھتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ایک کامل کتاب اُس کے سامنے موجو دہے۔(۵) اگر ایک ہی دفعہ سارا قرآن نازل ہو جاتا تو ایک حصہ میں دوسرے حصہ کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا تھا۔مثلاً قرآن کریم میں یہ پیشگوئی تھی کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال کر صحیح و سلامت لے جائیں گے۔اگر ایک ہی دفعہ سارا قرآن نازل ہو جاتا تو جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے جا یا گیا تھا اُس وقت یہ نہ کہا جا سکتا کہ دیکھو اسے ہم دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر لے آئے ہیں۔یہ اُسی صورت میں کہا جا سکتا تھا جب پہلے ایک حصہ نازل ہوتا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح و سلامت لے جانے کی پیشگوئی ہوتی اور جب یہ پیشگوئی پوری ہوجاتی تو اُس وقت وہ حصہ اُترتا جس میں اس کے پورا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا۔(۶) میرے نزدیک ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر قرآن کریم اکٹھا نازل ہو جاتا تو مخالفین یہ کہہ سکتے تھے کہ کسی نے بنا کر یہ کتاب دے دی ہے۔اب کچھ حصہ مکّہ میں نازل ہوا۔کچھ مدینہ میں۔مکہ والے اگر کہیں کہ کوئی شخص بنا کر دیتا ہے تو مدینہ میں کون بنا کر دیتا تھا۔پھر قرآن سفر میں بھی نازل ہوا اور حضر میں بھی نازل ہوا۔مجلس میں بھی نازل ہوا اور علیحدگی میں بھی نازل ہوا۔دن کے اوقات میں بھی نازل ہوا اور رات کی تاریکیوں میں بھی نازل ہوا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے اس اعتراض کو باطل کر دیا کہ قرآن کریم کے بنانے میں دوسرے لوگوں کا ہاتھ ہے۔اگر اکٹھی کتاب نازل ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ کوئی شخص کتاب بنا کر دے گیا ہے جسے سُنا دیا جاتا ہے۔مگر جب ہر موقعہ اور محل کے مطابق آیات اُتر تی رہیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہر موقعہ پر کوئی نئی آیت بنا کر آپؐ کو دے دیتا ہے۔پس قرآن کریم کا آہستہ آہستہ نازل ہونا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تثبیتِ فؤاد کا موجب ہوا