تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 100
آسکتا تھا اس ترتیب کی دنیوی مثال یوں سمجھ لو کہ جیسے کھانا پکانےکے لئے باورچی کام شروع کرتے ہیں تو بعض دفعہ کھانے کی ترتیب کے لحاظ سے ایک چیز بعد میں آتی ہے۔لیکن پکانے کے لحاظ سے باورچی اُس کو پہلے پکاتا ہے۔اور کوئی چیز کھانے میں پہلے آتی ہے لیکن وہ اس کو بعد میں پکاتا ہے۔اور اگر کوئی اعتراض کر ے کہ یہ چیزجو پہلے کھانی تھی تم نے بعد میں کیوں پکائی تو وہ جواب دےگا کہ یہ کھانی بے شک پہلے تھی لیکن اس کے پکانے میں پندرہ منٹ لگتے ہیں۔اگر اسے پہلے ہی پکا لیا جاتا تو اس وقت تک یہ خراب اور باسی ہو جاتی۔اور جو چیز بعد میں کھانی تھی بیشک وہ کھانی بعد تھی مگر اس کے پکانے میں اڑھائی تین گھنٹے لگتے ہیں۔اگر اس کو پہلے نہ پکایا جاتا تو وہ کچی رہتی۔پس اس کی ترتیب حکمت کے ماتحت ہوتی ہے۔پکانے کی اور ترتیب ہوتی ہے اور کھانے کی اور ترتیب ہوتی ہے۔جب وہ پکاتا ہے تو اس امر کو نہیں دیکھتا کہ پہلے کون سی چیز کھانی ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ جلدی کون سی چیز پکے گی۔جو جلدی پک جاتی ہے اُسے وہ بعد میں تیار کر لیتا ہے۔اور جو دیر میں پکتی ہے اُسے وہ پہلے تیار کر نا شروع کرتا ہے۔جو چیز دیر میں پکتی ہے اگر وہ اُسے دیر سے چڑھائےگا تو کھاتے وقت وہ چیز کچی ہوگی۔پس وہ دیر سے پکنے والی چیز کو چولھے پر پہلے رکھ لےگا خواہ وہ آخر میں کھائی جانے والی ہو اور جلد ی پکنے والی چیز کو بعد میں تیار کرےگا خواہ وہ پہلے کھائی جانے والی ہو۔اس مثال سے ظاہر ہے کہ بعض چیزوں کی استعمال میں اور ترتیب ہوتی ہے اور اُن کی تیاری میں اور ترتیب ہوتی ہے۔یہی طریق دنیا کے ہر کام میں نظر آتا ہے۔حکومتیں فوجیں تیار کرتی ہیں۔ملک کی تنظیم کرتی ہیں۔لوگوں کو تعلیم دلاتی ہیں۔اُن کو مختلف فنون سکھلاتی ہیں تو بعض لوگ جنہوں نے پیچھے کام کرنا ہوتا ہے۔اُن کی تیاری پہلے شروع کر دیتے ہیں۔اور بعض لوگ جنہوں نے پہلے کام کرنا ہوتا ہے اُن کی تیاری بعد میں ہوتی ہے۔مثلاً کسی کام کی ٹریننگ چھ ماہ میں مکمل ہو جاتی ہے اور کسی کام کی ٹریننگ میں چار سال صرف ہو تے ہیں۔اب خواہ ایک ہی وقت میں کام شروع ہونے والے ہوں تب بھی چار سال والے کی ٹریننگ پہلے رکھی جائےگی اور چھ ماہ والے کی بعد میں۔یا مثلاً عمارتیں اور پُل بنانے میں دیر لگتی ہے اُن کو پہلے بنایا جائےگا اور ریل کی سڑکیں جو جلدی تیار کر لی جاتی ہیں اُن کو بعد میں رکھا جائےگا۔فوجیں بعض دفعہ د س دس بیس بیس میل لمبی لائن ایک ہی دن میں بچھا دیتی ہیں۔لیکن پُل بنانے پر بڑا وقت صرف ہوتا ہے اس لئے پلوں کا انتظام اور رنگ میں ہوگا اور ریلوں کا انتظام اور رنگ میں۔یہی قرآن کریم کی ترتیب کا حال ہے۔قرآن کریم میں جو مضامین اُس وقت کے لحاظ سے ضروری تھے جب وہ نازل ہو رہا تھا اُن کو خدا تعالیٰ نے پہلے رکھا کیونکہ اس وقت قرآن کریم ابھی اپنی مکمل صورت میں اُن کے سامنے نہیں تھا۔انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ قرآن کیا ہوتا ہے۔اسلام کیا ہوتا ہے۔رسول کیا ہوتا ہے۔وحی کیا ہوتی ہے۔الہام کیا ہوتا