تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 5
تمام انبیاء فوت ہوئے مسیح ؑبھی فوت ہوا محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) بھی فوت ہوںگے مگر اس سے روحانی سلسلہ میں کوئی فرق نہیںآتا۔جس طرح سورج کے ڈوبنے سے کوئی فرق نہیں آتا۔ہر اک کا ایک کام ہوتاہے وہ کرتاہےاور چلاجاتاہے اصل زنجیر سارے عالم میں صرف خدا تعالیٰ کی ہستی ہے۔(آیت ۳۵،۳۶) دشمن تجھ پرہنسی کرتے ہیںکہ ایک انسان اتنا دعویٰ کرتاہے حالانکہ سوال کلام کے لانے والے کانہیں سوال کلام کے بھیجنے والے کا ہے۔اور وہ مرنے کے بعد بھی ان کو پکڑ سکتاہے اور پکڑےگا۔(آیت۳۷) خدا تعالیٰ عذاب دینے میں ڈھیلاہے اس لئے لوگ غرور میں آجاتے ہیں۔حالانکہ آثار پیدا ہو رہے ہیں کہ اسلام غالب ہوگا۔(آیت ۳۸تا ۴۵ ) جو کچھ میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ کی وحی سے کہتا ہوں۔عذاب آکر رہےگا۔اس وقت یہ لوگ پچھتا ئیںگے لیکن ہم عذاب دینے میںبھی ظلم نہیںکریںگے۔ہر اک کے اعمال کے مطابق معاملہ کریںگے۔(آیت ۴۶تا ۴۸ ) اس رسو ل سے پہلے موسیٰ آچکا ہے۔اور اس نے بھی لوگوں کو نجات کی دعوت دی (اگر نجات مل نہ سکتی تھی تو ایسا کیوںکیا ؟ )۔(آیت ۴۹،۵۰) مگر یہ ذکر اس سے زیادہ مکمل ہے اس میںسب اعلیٰ تعلیمیںجمع ہیں۔(آیت ۵۱) موسیٰ ؑ سے پہلے ابراہیم ؑ آیا جس کی طرف مسیح اپنے سلسلہ کو منسوب کرتاہے مگر ابراہیم ؑنے بھی شرک سے لوگوں کوروکا اور اس نے زمین و آسمان کاپیدا کرنے والا اللہ کو قرار دیا۔(نہ یہ کہ کلام یعنی مسیح سے دنیاپیدا ہوئی) اور مشرکوں کی غلطی اس طر ح ثابت کی کہ اصنام کو نقصان پہنچ سکتاہے (اسی طرح مسیح کو پہنچا اور اسے پھانسی دی گئی )۔(آیت ۵۲تا ۷۱ ) ہم نے ابراہیم ؑ کوچنا اور اسے ایک ملک کا وارث کردیا اورلوط ؑ جیسے لوگ اس پرایمان لائے اور اسحٰق ؑ جیسا بیٹااور یعقوب ؑ جیسا پوتااسے دیااور یہ لوگ نیک تھے۔(یعنی کفارہ کی ضرورت ا نہیں پیش نہ آئی کفارہ کے رو سے تو ہر مسیحی ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور موسیٰ ؑسے بڑا ہونا چاہیے کیونکہ ہر عیسائی کو کفارہ کے ذریعہ سے نجات مل چکی ہے جو انہیںنہیں ملی )۔(آیت۷۲تا۷۶) پھر نوح ؑ کو دیکھو اسے ہم نے نجات دی اور اس کے دشمنوںکوہلاک کیا۔اگر ورثہ کاگناہ تھا تو وہ کیوںتباہ ہوئے ؟ (آیت ۷۷،۷۸) اسی طرح دائود ؑ و سلیمان ؑ کو ہم نے اعلیٰ مقام دیا۔بغیر کفارہ کے ان کو یہ مقام کیوں ملا۔چونکہ دائود سے مسیح ؑ