تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 6

کاشجرہ ملایا جاتاہے اس لئے ان کا خاص طور پرذکر کیا۔(آیت ۷۹تا ۸۳) پھر ایوب ؑ کو دیکھو۔اس کی عبادت اس کے کام آئی اس کے مصائب مسیح ؑ سے بڑھ کر تھے اگر خدا کی راہ میںتکلیف اٹھانا فائدہ دیتاہے تو اسے سب سے بڑا ہونا چاہیے تھا پھر اسماعیل ؑ ،ادریس ؑ او ر ذوالکفل ؑ یہ سب لوگ خدا کی راہ میں قربانی کرنے والے تھے۔آخر ایک ہی صابر کو یہ درجہ ابنیت کاکیوں دیا جاتاہے ؟ (آیت ۸۴تا ۸۷) پھر ذوالنون ؑ کو دیکھو جس سے مسیح اپنی مشابہت بتاتاہے۔اس نے بھی تو تکالیف اٹھائیں وہ کیوں کفارہ کا موجب نہ بنا۔(آیت۸۸و۸۹ ) پھر زکریا ؑ کو لو اور اس کے بیٹے کو۔زکریا جو نیکی پرقائم اور اس کابیٹابھی انجیل کی رو سے نیک اور خدا کی راہ میں مرنے والا تھا۔وہ کیوںکفارہ کاموجب نہ بنے ان کے بعد مریم ؑ اور مسیح ؑ آئے ان کا ذکر بے شک دنیامیںپھیلے گامگر بہرحال ان لوگوںسے ان کے حالات مختلف نہیں۔پیدائش مسیح ؑ اگر غیر معمولی تھی تو پیدائش یحییٰ ؑ بھی غیر معمولی تھی۔(ایک کے ساتھ باپ کا اور ایک کے ساتھ ماں کا ذکر کیاہے۔تا دونوںکی معذوری ظاہر ہو۔بیوی کے علاج کابھی ذکر کیا ہے نیک دونوں تھے۔مصائب دونوں نے برداشت کئے۔پھریحییٰ ؑ کیوںنہ کفارہ کا موجب ہوا ؟ (آیت ۹۰تا ۹۲) یہ سب کے سب انسان ایک قسم کی طاقتوں والے تھے۔او ر ایک ہی قانون کے تابع تھے۔اور سب میری طرف توجہ دلاتے تھے۔پس اب نیاطریق اختیار نہ کرو۔(آیت ۹۳ ) مگر تعجب ہے کہ لوگ تفرقہ کرتے ہیں۔اور مجرب آزمودہ راستہ کوچھوڑ تے ہیں۔حالانکہ ہمارا طریق شروع سے ایک ہے جونیک ہوگااس سے نیک سلوک ہوگا۔(آیت ۹۴ ،۹۵) ہماری یہ سنت ہے کہ جب کوئی قوم ہلاک ہوتی ہے تو اسے دوبارہ اٹھنے کاموقعہ نہیں ملتا لیکن یاجوج ماجوج کے وقت ایساہوگا (جو مسیحی ہوں گے جن کا ذکر ہے) جب وہ سب طرف سے دنیاپر چھاجائیںگے تواس کے بعد دنیامیں ایک نئی روچلے گی۔اور یاجوج ماجوج پر عذاب نازل ہوگا اور وہ سب سامان جن پر ان کو غرور ہوگا تباہ ہوجائیںگے اس وقت مومن عذاب سے بچائے جائیںگے۔مگر کفر کانظام لپیٹ دیا جائےگا اور اس کے بعد پھرمومن فلسطین کے مالک ہوجائیںگے۔(آیت ۹۶ تا ۱۰۷) اے محمد! رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) تو رحمت کے طور پر آیاہے تاکہ کفارہ کی لعنت سے بچا کر توبہ کادروازہ کھولے۔تو توحید کااعلان کر اور منکروں کوہوشیار کر۔تیری قوم بھی فلسطین سے نکالی جائےگی پس تو ابھی سے دعا