تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 82
کے متعلق لکھاہے وہ یہ ہے کہ ’’ایوب کے والد کا نام اسوؔص تھاان کے والد کانام تارؔح تھا ان کے والد کانام روم تھا ان کے والد کانام عیصؔ تھااور ان کے والد کانام اسحاق ؑ تھا اور ان کے والد کانام ابراہیم ؑتھا اور ان کی والدہ لوط بن ہاران کی اولاد میںسے تھیں۔(عیصؔ نام جوغالباًایوبؑ کے پردادا کے والد کاتھاعیسو ؔکامخفف ہے کیونکہ بائیبل میں لکھا ہے کہ حضرت اسحاق ؑ کے ایک بیٹے کانام عیسو تھا) (پیدائش باب ۲۵ آیت ۲۵)۔پھرمسلمان مورخ یہ کہتے ہیں کہ ایوب بڑے مالدار تھے اورشام اوراس کے ملحقہ ملکوں کی زمینیں ان کی ملکیت تھیں اور گائیوںاور اونٹوں بکریوں گھوڑوں اور گدھوں کی ان کے پاس کوئی انتہانہ تھی ان کے پانچ سو ہل چلتے تھے۔اور پانچ سو غلام تھے۔اہل وعیال بھی بہت تھے۔مگر آپ دولت کے باوجود بڑے نیک تھے اور مساکین یتامی اور بیوگان کی پرورش کرتے تھے اور بڑے مہمان نواز تھے۔شیطان اپنی کوشش کے باوجود ان کو ورغلانے میںکامیاب نہیں ہوا آپ پر یمن کے تین آدمی ایمان لائے تھے ابلیس ان کے زمانہ میں آسمانی خبروں کو چوری چوری سن لیتا تھا (یہ خبر ہمارے مفسرین ہر نبی کے متعلق دیتے ہیں )ایک دفعہ ایوب ؑ نے بڑے اخلاص سے درود پڑھا اور فرشتوں نے اس کا جواب دیاتو شیطان نے وہ بھی سن لیا۔اللہ تعالیٰ نے ایوب ؑ کادرود سن کر اس کی بڑی تعریف کی اس پر ابلیس کو حسد آگیااور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میںحاضر ہوا اور اس نے کہا کہ ایوب پرجو آپ نے نعمتیںنازل کی ہیں ان کی وجہ سے وہ نیک ہے اگر آپ اس کی نعمتوں کو چھین لیں تو وہ آپ کی اطاعت سے نکل جائےگا۔تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔جامیںنے تجھے اس کے مال اوراسباب پرتصرف بخشا اور اس نے ان سب چیزوں کو ہلاک کردیا مگر ایوب ؑنے تب بھی الحمدللہ ہی کہا تب شیطان دوبارہ اللہ تعالیٰ کے پاس گیا اور کہا ابھی اس کی صحت تو باقی ہے اس لئے وہ شکر گذار ہے اس پراللہ تعالیٰ نے فرمایا جائو اس کے جسم پر بھی تجھے تصرف دیاجاتاہے لیکن یاد رکھنا اس کی زبان دل اور عقل پر تیرا قبضہ نہ ہوگا۔چنانچہ ان کے جسم میںکھجلی کی بیماری پیدا ہوگئی۔اور جسم کارنگ تبدیل ہوگیا اور زخموں میںکیڑے پڑگئے تب بستی والوں نے انہیں گھر سے نکال دیااس وقت وہ ایک جھونپڑہ میں چلے گئے جہاں ان کی ایک بیوی رحمت نامی ان کی خدمت گار تھی آپ پر ایمان لانے والے تینوں آدمیوں نے بھی آپ کوچھوڑدیا بعض کے قول کے مطابق حضرت ایوبؑ اس مصیبت میں ۱۸ سال رہے اوربعض کے قول کے مطابق ۳ سال رہے اور بعض کے قول کے مطابق سات سال رہے اس وقت کوئی ان کے قریب تک نہ آتا تھا سوائے ان کی بیوی کے جو ان کوکھانا لاکر دیتی تھی۔جب حضرت ایوب خدا تعالیٰ کی حمد کرتے تو وہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتی۔تب شیطان گھبرایااور اس نے کہاکہ آدم ؑ کی بیوی کو بھی پھسلایا گیاتھاکیوں نہ ایوب ؑکی بیوی کو بھی پھسلایاجائے تب وہ ان کی بیوی کے پاس آیا اور اس نے ایک بکری کا