تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 83

بچہ دے کر کہا کہ اگر ایوبؑ تیرے نام پراس کو ذبح کردیں تو اچھے ہوجائیں گے۔بیوی نے حضرت ایوب ؑ سے یہ ذکر کیا تو انہوں نے اس کو ڈانٹا اور کہا یہ تو خدا کادشمن ہے تم کیوں اس کے فریب میںآئیں۔خدا تعالیٰ نے اتنی لمبی مدت تک نعمتیںدی تھیں اگر چند سال مشکلات کے آگئے تو کیا ہو اپھر قسم کھائی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے شفا ء دی تو وہ بیوی کو اس کی غلطی پر سوکوڑے لگائیںگے اور بیوی کو گھر سے نکال دیا اور کہا کہ میںاللہ کے سوا کسی کے نام پر جانور ذبح کرنے کے لئے تیار نہیں۔پھر آپ نے دعا کی کہ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے ایوب! میںنے تیری دعاسن لی اُٹھ اورزمین پر پائوں مار تو چشمہ پھوٹ پڑا آپ نے اس سے غسل کیاتو ساری بیماری جاتی رہی اورجوانی کا زمانہ عود کرآیا آپ نے ایک دفعہ پھرپائوں مارا تو ایک اور چشمہ پھوٹ پڑ ااس سے آپ نے پانی پیا تو سب اندرونی بیماریاں جاتی رہیں۔اس وقت ان کی بیوی کو خیال آیاکہ گو ایوبؑ نے مجھے میری غلطی پر نکال دیا مگر وہ بھوکے مر جائیں گے۔وہ ان کو ڈھونڈتی ہوئی آئی مگر ان کو اپنی جگہ پر نہ پایا۔وہ روتے روتے سب جگہ ان کو ڈھونڈنے لگی آخر وہ ان کومل گئے اور حضر ت ایوب ؑ نے اس طرح قسم پوری کی کہ سو تیلیاں اکٹھی لے کر ان کو ماریں۔(تفسیرخازن) یہ واقعہ لوگوں کو اتنا دلچسپ نظرآیا ہے کہ ہندوؤں کی تاریخ میں بھی پایا جاتاہے اور یہودیوں کی تاریخ میں بھی گوبعض جگہ نام بدل دیئے گئے ہیںبائیبل میں حضرت ایوبؑ کی ایک مستقل کتاب ہے جس کے ۴۲باب ہیں اور اس کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ وہ حضرت مسیح سے ۱۵۲۰ سال پہلے گذرے ہیں یعنی حضرت موسیٰ سے قریباً ۲۰۰ سال پہلے۔مغربی محققین کے نزدیک حضرت ایوب ؑایک غیراسرائیلی نبی تھے۔کیونکہ وہ عیسو کی نسل میںسے تھے جو کہ اسرائیل کابڑا بھائی تھا اور عوض کے رہنے والے تھے جو دور آخر کے SIDON کا شہر تھااور شام اور خلیج عقبہ کے درمیان واقع تھا۔(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ JOB اور انسائیکلو پیڈ آف اسلام ) مگر میرے نزدیک یہ بات درست نہیںکیونکہ اس ملک کے لوگوں کی بنی اسرائیل سے سخت عداوت تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو اپنے علاقہ میںسے گذر کر کنعان نہ جانے دیا تھا اور اس عداوت کے سبب سے بنی اسرائیل ہمیشہ ان سے جنگ کرتے رہتے تھے اور صرف ایک قلیل عرصہ کے لئے اسیرین لوگوں کے حملوں کے مقابلہ میں ان دونوں قوموں کی آپس میں صلح ہوئی تھی۔ایسے دشمن قبیلہ کے بزرگ کاواقعہ سب دنیاکے واقعات کو چھوڑ کربائیبل میں درج کرنا خلاف قیاس ہے۔