تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 81

دعوت کا پر تکلف سامان کیااور جب مامون روانہ ہونے لگاتو اس عورت نے اشرفیوںکی دس تھیلیاں مامون کی نذرکیں۔مامون پہلے ہی ا س کی دعوت کے اہتمام سے متعجب تھا اب جو اس نے اشرفیوں کی دس تھیلیاں دیکھیں تو وہ اور بھی متعجب ہوا اور اس نے ان اشرفیوں کے قبول کرنے سے معذرت ظاہر کی وہ خاتون کہنے لگی۔بادشاہ سلامت یہ تو کوئی بڑی چیز نہیں۔یہ سونا تو ہمارے گائوں کی مٹی میںسے پیدا ہوتاہے اور اس کے علاوہ میرے پاس ابھی بہت کچھ سونا موجود ہے جب مامون الرشید نے بات سنی تو اس نے اس ہدیہ کوخوشی سے قبول کرلیا۔(اقوام المسالک فی احوال الممالک ۱۳۷بحوالہ تہذیب الاخلاق جلد ۳ صفحہ۱۴۲) وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ اور (تو) ایوب ؑ کو( بھی یاد کر) جب اس نے اپنے رب کو پکار کر کہا۔کہ میری حالت یہ ہے کہ مجھے تکلیف نے آپکڑا ہے۔الرّٰحِمِيْنَۚۖ۰۰۸۴فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اور اے خدا! تو توسب رحم کرنےوالوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔پس ہم نے اس کی دعاسنی اور جو تکلیف اس کو اٰتَيْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ پہنچی ہوئی تھی اس کو دور کردیا۔اور اس کو اس کے اہل و عیال بھی دئیے اور ان کے سوا اپنی طرف سے رحم کرتے ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِيْنَ۰۰۸۵ ہوئے اور بھی دیئے۔اور ہم نے اس واقعہ کو عبادت گذار وں کے لئے ایک نصیحت کاموجب بنایا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلضُّرُّ۔ضِدُّ النَّفْعِ نقصان۔سُوْءُ الحَالِ وَ الشِّدَّةُ بدحالی اور تکلیف۔(اقرب) تفسیر۔ان دونوں کے بعد حضرت ایوب ؑ کا ذکرکیاگیاہے۔جن کی ساری عمر مشکلات میںکٹ گئی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لحاظ سے شاید حضرت علی ؓ کو حضرت ایوب ؓ سے نسبت دی جاسکے اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لحاظ سے تو بہرحال یہ ایک پیشگوئی ہے جو وقت پر آکر ظاہر ہوگی۔حضرت ایوب علیہ السلام جن کا ذکر اس جگہ پر آتاہے ان کے متعلق مختلف اقوام نے روشنی ڈالی ہے مسلمانوں نے عیسائیوں نے اور ان یہودی مؤرخوں نے جو کہ مذہب کی روشنی میںتاریخ لکھتے ہیں مسلمانوں نے جو کچھ ان