تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 76
نہیں۔پس مَنْ کا استعمال كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ کا استعمال اور وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ کے الفاظ بتارہے ہیںکہ اس میںانسانوںکا ہی ذکر ہے خصوصاً وہ بلند مرتبہ انسان جو باجماعت نمازیں ادا کیاکرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر طیر سے مراد اس جگہ مومن ہی ہیں تو پھر انہیںطیر کیوں کہا گیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی اعمال کا جو نتیجہ ہو یافطرتی طاقت ہو اسے عربی میں طائر کہتے ہیں۔اور اس کا ذکر قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی آتاہے۔اللہ تعالیٰ سورئہ اعراف میںفرماتا ہے۔فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (الاعراف:۱۳۲) فرماتا ہے جب ان کو کوئی خوشی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ ہماراحق ہے اور جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ موسیٰ ؑکے بدعمل کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ ان کاپرندہ خدا خدا کے پاس ہے اب وہ تو کہتے ہیں کہ ہم پر موسیٰ کی وجہ سے عذاب آیاہے اور خداکہتاہے تمہارا پرندہ ہمارے پاس موجود ہے ان دونوں کاآپس میںجوڑ کیا ہو ا اس کے لئے لغت دیکھی جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے لغت میںلکھاہے کہ طائر انسانی عمل کوبھی کہتے ہیں (اقرب) اور اس جگہ یہی معنے مراد ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کے تمام اعمال ہمارے پاس محفوظ ہیں لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔پھر فرماتا ہے۔قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ(النمل:۴۸) جب ثمود کے پاس حضر ت صالح ؑ نبی آئے تو انہوںنے یہ کہنا شروع کردیا کہ تیرے اور تیرے ساتھیوں کے برے عمل کی وجہ سے ہم تباہ ہوئے ہیں جیسے آج کل کہتے ہیںکہ حضرت مرزا صاحب کی وجہ سے ہی طاعون اور دوسری وبائیں آئیں۔فرماتا ہے ان کے نبی نے ان کو جواب دیا کہ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ کہ تمہارا طائرخداکے پاس ہے بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَبلکہ تم ایک ایسی قوم ہو جس کے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے پھرتین رسولوں کا سورۃیٰس میں ذکر کرکے فرماتا ہے۔قَالُوْۤا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَيَمَسَّنَّكُمْ۠ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔قَالُوْا طَآىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(یس:۱۹،۲۰) یعنی جب وہ مصلح اور رسول ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری وجہ سے بڑی تکلیفیں اٹھارہے ہیں۔اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔انہوںنے کہا۔تمہارا پرندہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے عمل تمہیں تباہ کر یں گے ہمیںتو کوئی نقصان نہیںپہنچا سکتے۔ان تمام مقامات پرطائر کالفظ استعمال ہوا ہے جو قوت عملیہ اور نتیجہ عمل کے معنوں میں ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس لفظ کے استعمال کی حقیقت کیا ہے اور اس کی انسان کے ساتھ نسبت کیا بنتی ہے؟ سو اس کے متعلق جب ہم غور