تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 75

کرتے تھے تو کہتے ہیں پہاڑ واقعہ میں سبحان اللہ سبحان اللہ کیا کرتے تھے اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ کہے کہ ہم نے زمین و آسمان مسخر کردئیے تو کہیں گے یہاں تشبیہ مراد ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ذکر آئے کہ انہوں نے مردے زندہ کئے تو کہیں گے یہاں مردوں سے روحانی مردے مراد ہیں۔لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اگر یہ الفاظ آجائیںتو جب تک وہ یہ نہ منوالیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مُردوں کے نتھنوں میںپھونک مار کر انہیں زندہ کردیا تھا اس وقت تک انہیں چین ہی نہیںآتا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیاطیر کے متعلق قرآن کریم میںکوئی اشارہ ہے یا نہیں۔سوجب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیںمعلوم ہوتاہے کہ طیر کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ(الانعام:۳۹)کہ زمین پر چلنے والے جانور اور پرندے سب تمہاری طرح قومیں اور گروہ ہیںاب یہاں ہم دیکھتے ہیںکہ خدا تعالیٰ نے پرندوں کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ يَطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ کہ وہ پرندے جو اپنے پروں کے ساتھ اڑتے ہیںجس سے معلوم ہوتاہے کہ ایک پرندہ ایسا بھی ہوتاہے جو پروں سے نہیںاڑتا۔پھر اس سے بھی واضح آیت ایک اور ملتی ہے جس سے صاف طورپرپتہ لگتاہے کہ واقعہ میں طیر کسی اور چیز کانام ہے۔سورئہ نور میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ (النور:۴۲) فرماتا ہے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وہ تمام ذو ی العقول کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمینوں میںہیں۔وہ طیر بھی جو صفیں باندھ باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔اوران گروہوں میںسے ہر ایک کو نماز اور تسبیح کا طریق معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ان ذوی العقول کے تمام اعمال سے واقف ہے۔یہاں تین دلیلیں اس بات کی موجود ہیںکہ طیرسے مراد پرندے نہیں۔اول مَنْ کا لفظ ہمیشہ ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتاہے۔غیر ذوی العقول کے لئے نہیں۔پھریہ بھی قابل غور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ میں سے صرف طیر کو کیوں نکالا۔جنّات اور دوسری مخلوق کاالگ ذکر کیوں نہیںکیا۔کیا اس سے صاف طورپریہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ طیر کوئی الگ چیز ہے۔پھرفرماتا ہےكُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ اب سارے قرآن میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ پرندے بھی نماز یںپڑھاکرتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ وہ خالی تسبیح ہی نہیںکرتے بلکہ انہیںنماز کا بھی علم ہے اور وہ صفیں باندھ باندھ کر نماز یں پڑھتے ہیں۔آخر میںفرمایا۔وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَاور یَفْعَلُوْنَ کا صیغہ پھرذوی العقول کے لئے استعمال ہوتاہے آخر تم نے کبھی ایسے طیر بھی دیکھے ہیںجو صفیںباندھ باندھ کرنمازیںپڑھتے ہوں۔ایسے طیر تو دنیا میں صرف مسلمان ہی ہیں اور کوئی