تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 77

کرتے ہیں تو ہمیںسورئہ بنی اسرائیل میں ایک آیت نظر آتی ہے جوہمیںاس مضمون کے بہت زیادہ قریب کردیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۔اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا۔مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا(بنی اسرائیل:۱۴ تا ۱۶) فرماتا ہے۔ہر انسان کے ساتھ ہم نے ایک پرندہ اس کی گردن کے نیچے باندھا ہواہے اور ہم قیامت کے دن اس کے اعمالنامہ کو اس کے سامنے لائیںگے اورکہیں گے اسے پڑھ ہم حساب نہیںکرتے تو اپنی نیکی بدی کا حساب کر لے جوہدایت پاتاہے وہ اپنے لئے پاتاہے اور جوگمراہ ہوتاہے اس کانقصان بھی اسی کوہوتاہے۔کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔اور ہم اس وقت تک لوگوں کوعذاب نہیںدیتے جب تک کوئی رسول مبعوث نہ کرلیں۔یہاں قرآن کریم نے طائر کے نہایت لطیف معنے کئے ہیں اور بتایا ہے کہ ہر انسان کی گردن کے نیچے پرندہ ہے اب ہم دیکھتے ہیںکہ اس کامفہوم کیا ہے۔سو جب ہمیں خدا نے بتا دیا ہے کہ یہ پرندہ ہر انسان کی گردن کے نیچے ہے تو ہمیںیہ تو نظر آرہا ہے کہ کوئی پرندہ گردن کے نیچے نہیںہوتا۔پس صاف معلوم ہو اکہ اس پرندے سے مراد کوئی اور چیز ہے اور وہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ قوت عمل یا نتیجہ اعمال کا نام خدا تعالیٰ نے طائر رکھا ہے۔پس جو بھی انسان اعمال کرتاہے ان کی پرندے والی شکل بنتی چلی جاتی ہے۔اگر تو انسان نیک اعمال بجالائے۔تو و ہ انسان کو آسمان روحانیت کی طرف اڑا کر لے جائیںگے جیسے ہوائی جہاز فضائے آسمان میں اڑاکر لے جاتاہے۔اور اگر برے اعمال ہوں گے تو لازماًپرندہ بھی کمزور ہوگا۔اور انسان بجائے اوپراڑنے کے نیچے کی طرف گرےگا۔اب قرآن کریم ایک طرف تو یہ بیان کرتاہے کہ ہم نے ہرانسان کے ساتھ ایک طائر باندھ رکھا ہے۔اگر وہ اچھے عمل کرے گا تو وہ طائر اسے اوپر اڑاکر لے جائےگا۔اور اگر برے اعمال کرےگا تو وہ اسے نیچے گرادےگا۔دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مضمون کو ان الفاظ میں ادا فرماتے ہیںکہ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ(بخاری کتاب الجنائز باب ما قیل فی اولاد المشرکین)کہ ہر انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے ترقی کی قابلیت رکھی ہوئی ہے۔پھر ماں باپ اسے یہودی یامجوسی یا نصرانی بنادیتے ہیں۔گویا ہرانسان میں اڑنے کی طاقت ہے۔یہی مضمون كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ میں بیان کیا گیا ہے کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتاہے تو اس کاپرندہ بھی اس کے ساتھ پیدا کردیا جاتاہے۔پھر بعض ماں باپ اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔اور بعض جو بچ جاتے ہیں ان کے لئے دوسری صورت پیدا ہوجاتی ہے۔یہ انسان طائر جو اچھے لوگ ہوتے ہیں عمل نیک