تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 70
کی پرواز اور نظریں آسمان پر ہوتی ہیں۔ان آیات میںاللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِيْنَ یعنی ہم نے داود ؑ کے لئے پہاڑ وں کو مسخر کر دیا تھا جو ہر وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی مسخر کردیئے تھے اور ہم یہ سب کچھ کرنے پر قادر تھے اسی مضمون سے ملتاجلتا مضمون بعض دوسری سورتوں میںبھی بیان ہوا ہے۔چنانچہ سورہ سبا رکوع ۲ میں بھی آتاہے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ۔اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (سبا :۱۱۔۱۲)یعنی ہم نے دائود پر بڑافضل کیا اور ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ اے پہاڑو اس کے ساتھ چلو اور پرندوں کو بھی حکم دے دیا کہ اس کے ساتھ رہیں اس کے لئے ہم نے لوہا نرم کردیا اور اسے کہا کہ اس لوہے سے زرہیں بنائو اور نیک اعمال کرو۔میںتمہارے کاموں سے خوب واقف ہوں۔اسی طرح سورئہ نمل میں آتاہے وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔وَ وَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَ اُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ۔وَ حُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ (النمل:۱۶ تا ۱۸)یعنی حضرت سلیمان ؑ دائودؑ کے وارث بنے اور انہوں نے کہااے لوگو مجھے اور میرے باپ کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم کو ہر چیز دی گئی ہے اور ہم پر یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑافضل ہے اور سلیمان کے لئے لشکر جمع کئے گئے۔وہ لشکر انسانوں کے بھی تھے اور جنوں کے بھی تھے اور پرندوں کے بھی تھے۔پھر سورئہ ص رکوع ۲ میںآتاہے وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ۔اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِ۔وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ (ص:۱۸ تا ۲۰)یعنی ہمارے بندے دائودؑ کو بھی یادکرو۔جو بڑی طاقت والا تھا۔وہ ہماری درگاہ میںبات بات پر جھکتا تھا ہم نے اس کے لئے پہاڑ مسخر کردیئے تھے جو صبح وشام تسبیح کرتے تھے۔اسی طرح پرندے بھی اس کی خاطر اکٹھے کردیئے تھے اور یہ سب کے سب اس کے کامل مطیع اور فرمانبردار تھے۔ان آیا ت کی بنا پر مفسرین لکھتے ہیںکہ حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میںپہاڑ بھی تھے جنّ بھی تھے۔پرندے بھی تھے اوروہ سب مل کر حضر ت دائودعلیہ السلام کے ساتھ ذکر الٰہی کرتے تھے جب وہ کہتے سبحان اللہ تو پہاڑ بھی اور پرندے بھی اور جن بھی اور حیوانات بھی سب سبحان اللہ کہنے لگ جاتے۔جیسے کشمیری