تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 71
واعظوں کادستور ہے کہ لیکچر دیتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد خود سستانے کے لئے کہہ دیتے ہیں ’’پڑھو درود ‘‘ وہ بھی گویااسی طرح کرتے تھے جب خود ذکر الٰہی کرتے کرتے تھک جاتے تو کہتے ہمالیہ کرتسبیح اوروہ تسبیح کرنے لگ جاتا۔پھر جب انہیںآرام آجاتا تو کہتے چپ کرجائو اب میںتسبیح کرتاہوں بعض کہتے ہیں پہاڑوں وغیرہ کاسبحان اللہ کہناکون سی بڑی بات تھی وہ باقاعدہ رکوع و سجود بھی کرتے تھے جب حضر ت دائود ؑ سجدہ میںجاتے تو سارے پہاڑ اور پرند چرند بھی سجد ہ میںچلے جاتے۔اور جب وہ رکوع کرتے تو سب رکوع کرنے لگ جاتے۔بعض کہتے ہیں اس تاویل سے بھی مزہ نہیں آیا۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت دائود ؑ جہاں بھی جاتے پہاڑ آپ کے ساتھ چل پڑتے۔حضرت دائود ؑ تھے شام میں اور یہ ہمالیہ۔شوالک اور ایلپس سب آپ کے ساتھ ساتھ پھرا کرتے تھے اسی طرح پرندے بھی مل کر تسبیح کرتے تھے۔ان دنوں چڑیاں چوں چوں نہیں کرتی تھیں۔بکریاں میں میں نہیں کرتی تھیں بلکہ سب سبحان اللہ سبحان للہ کہا کرتے تھے کوئی یہ نہ پوچھے کہ بکری کس طرح پرندہ ہوگیا۔کیونکہ تفسیروں میںاسی طرح لکھا ہے غرض وہ عجیب زمانہ تھا اسی طرح سلیمان ؑ پرخدا تعالیٰ نے ایک اور مہربانی کی اور وہ یہ کہ جنّ ان کے حوالے کردئیے جو ان کے اشارے پر کام کرتے تھے جب وہ چلتے تو پرندے ان کے سر پر اپنے پر پھیلا کر سایہ کردیتے۔وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ نعوذ باللہ حضرت دائود ؑ بڑے شکی طبیعت کے آدمی تھے جب کہیں باہر جاتے تو اپنی بیویوں کوگھر میں بند کرجاتے۔ایک دفعہ گھر میںآئے تو دیکھا ایک جوان مضبوط آدمی اندر پھر رہا ہے۔وہ اسے دیکھ کر سخت خفاء ہوئے اور کہنے لگے تجھے شرم نہیںآتی کہ اندر آگیا ہے پھر اس سے پوچھا کہ جب مکان کے تمام دروازے بند تھے تو تو اندر کس طرح آگیا۔وہ کہنے لگا میں وہ ہوں جسے دروازوں کی ضرورت نہیں آپ نے پوچھا کیا تو ملک الموت ہے اس نے کہا ہاں اور اس نے آپ کی جان نکال لی۔حضرت دائود علیہ السلام کو جب دفن کرنے لگے تو تمام پرندے اکٹھے ہوگئے اور انہوںنے آپ پر پروں سے سایہ کیا۔کہتے ہیں حضرت سلیمان ؑ تمام پرندوں کی بولی جانتے تھے۔کسی نے کہا کہ جانوروںکی بولیاں جانتے تھے یانہیں تو مفسرین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جانتے تو تھے مگر اختصار کے لحاظ سے صرف پرندوں کا ذکر کیا گیا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ بارش نہ ہوئی تو لوگوں نے حضرت سلیمان ؑ سے کہا کہ چلیں استسقاء کی نماز پڑھائیں حضرت سلیمان ؑ نے کہا گھبراؤ نہیں بارش ہوجائے گی۔کیونکہ ایک کیڑی پیٹھ کے بل کھڑے ہوکر کہہ رہی تھی کہ خدایا اگر بارش نہ ہوئی تو ہم مر جائیں گی۔(تفسیرابن کثیر برحاشیہ فتح البیان جلد ۷ صفحہ ۲۰۴تا ۲۱۰و قرطبی زیر آیت ھذا) یہ وہ واقعات ہیںجو استعارے اور تشبیہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مفسرین کو گھڑنے پڑے ہیں حالانکہ بات بالکل