تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 69
تفسیر۔پھر فرماتا ہے کہ دائودؑ اور سلیمان ؑ کو یاد کرو جبکہ وہ ایک کھیتی کے بارہ میں فیصلہ کر رہے تھے جبکہ اس کھیتی میں قوم کی بکریاں داخل ہوکر کھیتی کھا گئی تھیں۔مفسرین کہتے ہیں کہ کسی کی کھیتی بکریاں چرگئی تھیں۔حضرت دائود ؑ نے بکریاں کھیتی والے کو دلا دیں۔حضرت سلیمان ؑ نے کہاکہ نہیںبکریوں والاپانی دے اور کھیتی ہری کرے اور جب کھیتی پہلے جیسی ہو جائے تو اپنی بکریاں واپس لے لے(درمنثور زیر آیت ھذا)۔اس فیصلہ میںاگر یہ واقعہ اسی طرح ہوا ہو تو کوئی خاص بات نہیںکہ جسے قرآن کریم میں اس جگہ بیان کیاجائے۔میرے نزدیک اس آیت میںیہ بتایا گیا ہے کہ جب بھی نبی کی قوم عزت پاتی ہے تو دائود ؑ اور سلیمان ؑ کے زمانہ کی طرح ان کی قوم کے حریص لوگ نظام میںتفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور چارپایہ مزاج لوگ دین کی کھیتی کو چرنے لگ جاتے ہیں۔فرماتا ہے اس کا علاج ہم نے سلیمان ؑ کو سکھا دیا تھا۔جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کی ہمسایہ قومیںجو چھاپے مار کر ان کی حکومت کو برباد کرنا چاہتی تھیں ان کے حملوں سے اس نے اپنی مملکت کو بچالیا اور نظام کی حفاظت کی۔بے شک سلیمان ؑاور دائود ؑدونوں کو بادشاہت بھی ملی تھی اور علم بھی ملاتھا مگر اس بارہ میں سلیمان ؑ کا طریق ٹھیک تھا اصل بات یہ ہے کہ حضرت دائود ؑ جنگی آدمی تھے اور انہوں نے ظالموں اور مفسدوں کو بڑی سخت سزائیں دی تھیں۔بلکہ بعض جگہ ان کے دوتہائی مرد قتل کردیئے تھے۔حضر ت سلیمانؑ کو اللہ تعالیٰ نے یہ فہم عطافرمایا کہ اب ہمسایوں سے نرمی کرو تو ان کی عداوت کم ہو جائےگی۔چنانچہ حضرت سلیمانؑ نے زیادہ تر معاہدات سے کام لیا اور اس طرح تمام ہمسایوں سے اپنی مملکت کو بچالیا مگر اس کے علاوہ فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ میںایک اور حکمت بھی مدنظر رکھی گئی ہے۔اور وہ یہ کہ اسرائیلی مصنفوںبلکہ یورپ کے مصنفوں کا بھی خیال ہے کہ حضرت دائود ؑ کی پالیسی اعلیٰ تھی اور حضرت سلیمان ؑکاطریق عمل ناقص تھا۔اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے سلیمان ؑ کو اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا خوب سکھایا تھا(The Dictionary of Bible p۔829)۔اور چونکہ اس سے شبہ پیدا ہوتا تھا کہ پھرکیا دائود ؑکو نہیںسکھایا تھا؟ اس لئے اگلے حصہ میں وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا کہہ کر اس کا بھی ازالہ کردیا اور بتادیاکہ حضرت سلیمان ؑکو سکھانے سے یہ مراد نہیں کہ حضرت دائود ؑ کا طریق عمل غلط تھا بلکہ اس سے سلیمانؑ پرعائد کردہ ایک الزام کاازالہ مقصود ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ دائود ؑ کے ساتھ بھی بڑے بڑے لوگ شامل تھے جو اس کے ساتھ مل کر خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے یعنی روحانی لوگ بھی اس کے گرد جمع ہو گئے تھے جن