تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 60

مایوس کردیا تھا جبکہ ابراہیم علیہ السلام کے دشمن آخر تک کہتے رہے کہ آئو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔اس جگہ اس امر کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑنے جس بت خانہ کے بت توڑے تھے وہ کسی دوسرے کا نہیںتھا بلکہ ان کا اپنا خاندانی بت خانہ تھااگر وہ دوسروںکاہوتا تو اس کاتوڑنا ان کے لئے جائز نہ ہوتا۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا اپنا بت خانہ تھا اور انہیںورثہ میں ملا تھا اور چونکہ حضر ت ابراہیم ؑ بچپن سے ہی شرک سے سخت نفرت رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اس بت خانہ کو جو ان کی آمدنی کاایک بڑا بھاری ذریعہ اور ملک میںان کی عزت اور نیک نامی کاباعث تھا توڑ دیا۔جب انہوںنے بتوںکوتوڑاتو سارے ملک میںایک شور مچ گیا بادشاہ کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا گیا۔ملک کے دستور اور بادشاہ کے قوانین کے مطابق اس فعل کی سزا جلادینا تھا۔یہ ایک پرانی رسم تھی کہ جو بتوںکی ہتک کرتااسے جلادیا جاتا تھا۔کیونکہ بتوں کی ہتک کرنا ارتداد سمجھا جاتا تھا اور ارتداد کی سزا پرانے زمانہ میںیاتو جلانا تھی یا سنگسار کرنا۔چنانچہ یورپ میںجب پراٹسٹنٹ عقیدہ کے عیسائی پیدا ہوئے تو انہیںمرتد قرار دے کر آگ میںجلایا جاتا تھا۔اس کے مقابلہ میںایشیا میںسنگسار کرنے کارواج تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم تھا کہ بتوں کے توڑنےکی وجہ سے یہ سزا تجویز ہوگی مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ اپنا نشان دکھائے۔آخر ان لوگوں نے آگ جلائی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ڈال دیا۔لیکن عین اس موقعہ پربادل آیاجس نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میںسے صحیح سلامت نکل آئے۔چونکہ بت پرست بہت وہمی ہوتے ہیں۔اس لئے جب ادھر انہوںنے آگ جلائی اور ادھر بادل آگیا اور آگ بجھ گئی۔تو انہوں نے سمجھا کہ خدا کی مشیت یہی ہوگی اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیا۔وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا اور ہم نے اسے بھی اور لوط ؑ کو بھی اس زمین کی طرف نجات دی جس میںہم نے تمام لِلْعٰلَمِيْنَ۰۰۷۲ جہانوں کے لئے برکتیں رکھی تھیں۔تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے اُور میںرہتے تھے جوعراق کے علاقہ میںتھا۔وہاں سے آپ حاران کی طرف جو بالائی عراق میں واقع ہے تشریف لے گئے اور وہاں سے کنعان کی طرف خدا تعالیٰ کے حکم سے