تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 61
آپ نے ہجرت کی اور یہ زمین آئندہ ان کی اولاد کے لئے مقرر کردی گئی۔ان آیات میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابراہیم ؑ اور لوط ؑدونوں کو نجات دی اور کامیاب کرکے فلسطین میںلے گیا۔بعینہٖ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دشمنوں سے نجات دی اور ان کے غلام عمر ؓ کو ایک فاتح کی شکل میںبیت المقدس میںلے گیا۔وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ يَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا اور ہم نے اسے اسحٰق ؑ بھی بخشا اور یعقوب بھی بطور پوتے کے( دیا)۔صٰلِحِيْنَ۰۰۷۳ اور ہم نے سب کو نیک بنایا۔حلّ لُغَات۔نَافِلَۃً۔اَلنَّفْلُ کے معنے ہوتے ہیںاَلزِّیَادَۃُ عَلَی الْوَاجِبِ جوکسی کو دینا واجب اور ضروری تھا اس سے زیادہ دیا اور نَافِلَۃٌ: وَلَدُ الْوَلَدِ کو بھی کہتے ہیںیعنی پوتے کو (مفردات ) تفسیر۔پھر فرماتا ہے ہم نے ابراہیم کو اسحاق ؑ او ریعقوب ؑ انعام کے طور پربخشے۔ایسا ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی وعدہ ہے چنانچہ مسلمانوں کو دعا سکھائی گئی ہے کہ۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَّ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ یعنی اے اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آنے والی روحانی اولاد پر اسی طرح فضل نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم ؑ اورا س کی اولاد پر فضل نازل فرمائے تھے۔بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ اعتراض کیا کرتے ہیںکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ تو حضرت ابراہیم ؑ سے بہت بڑاہے پھر ایک بڑے درجہ والے کے لئے یہ دعاکرنا کہ اسے وہ کچھ ملے جو ان سے چھوٹے درجے والے کوملاتھا اور نہ صرف ایک دفعہ یہ دعاکرنا بلکہ قیامت تک کرتے چلے جانا ایک مضحکہ خیز امر ہے اور یہ ایسی ہی دعاہے جیسے کسی ای۔اے۔سی کو کہا جائے کہ خداتمہیںتھانیدار بنادے اس کے متعلق یہ امر یاد رکھانا چاہے کہ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو قسم کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے ایک خوبیاں تو وہ ہیں جو ان کی ذاتی ہیں مثلاً یہ کہ ابراہیم ؑ حلیم تھا۔اواہ تھا۔منیب تھا۔صدیق تھا۔خدا کامقرب تھا۔ان خوبیوں اور مدارج کے لحاظ سے محمدؐ رسول اللہ