تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 59

تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے کہاکہ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو ابراہیم ؑ کو جلا دو۔اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ہم نے کہا۔اے آگ تو ابراہیمؑ کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔اور قوم ابراہیم ؑنے اس کے خلاف ایک تدبیر کرنی چاہی۔مگر ہم نے اس کو ناکام کردیا۔معلوم ہوتاہے کہ کسی غیبی سامان یعنی آندھی یا بارش وغیرہ سے آگ بجھادی گئی تھی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اے آگ۔ٹھنڈی ہوجا۔یہ نہیںفرماتا کہ اے آگ جلا نہیں۔درحقیقت ایمان بالغیب کے قیام کے لئے بھی کسی ایسے ہی طریق کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ایک حد تک اخفا کا بھی پہلو ہو۔ورنہ ایمان لانے کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اس واقعہ میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایک بڑی مماثلت ہے قوم ابراہیم نے کہا تھااس کو جلا دو۔اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔گویا وہ سمجھتے تھے کہ معبودوںکی مدد کا کوئی راستہ کھلا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ ان کو قید کر دو یا قتل کردو یا اپنے شہرسے جلاوطن کردو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںاس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ (الانفال:۳۱) یعنی اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ کفار تمہارے متعلق یہ منصوبے کررہے تھے کہ وہ تجھے قید کردیں یاقتل کردیں یا تجھے اپنے وطن سے باہرنکال دیں اور وہ اس کے متعلق بڑی بڑی تدبیریں سوچ رہے تھے مگر اس کے مقابلہ میں خدابھی اپنی تدبیر کر رہا تھا۔اور خدا تعالیٰ سے بہتر اور کون تدبیر کرنے والا ہے۔چنانچہ دیکھ لو مکہ والوں نے لڑائی کی آگ متواتر دس سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جلائی مگرناکام رہے اور وہی لڑائیاں جو محمد ؐرسول اللہ کے جلانے کے لئے کی گئی تھیں محمدؐ رسول اللہ کی ترقی اور کامیابی کا موجب ہوئیں اور آخر محمد ؐرسول اللہ فاتحانہ رنگ میںمکہ میںداخل ہوئے اور پرانے سے پرانے دشمن آپ کی بیعت کرنے کے لئے آئے ہندہ کے متعلق آپ نے کہا تھا کہ چونکہ اس نے مسلمانوں کے مروانے میںبڑا حصہ لیا ہے اس لئے جہاں بھی ملے اسے قتل کردیا جائے وہ چادر اوڑھ کر دوسری عورتوںکے ساتھ مل کر بیعت کرنے کے لئے آگئی۔اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے عورتو !وعدہ کرو کہ ہم شرک نہیںکریںگی تو ہندہ جو بڑی جوشیلی عورت تھی تڑپ کر بولی۔یا رسول اللہ کیا اب بھی ہم شرک کریںگی۔آپ اکیلے تھے اور ہمارے بت اورسب عرب والے ہمارے ساتھ تھے پھر بھی ہم ہار گئے اور آپ جیت گئے۔ہم ایسے بیوقوف نہیںکہ اب بھی سمجھیں کہ بتوں کے ہاتھ میںکوئی طاقت ہے۔دیکھو محمدؐ رسول اللہ کی فتح نے مشرکوں کو کیسا