تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 623
ایک باغ میں تشریف لے گئے تھے وہ سب کے سب آپ کے پیچھے اُٹھ کر چلے گئے اور انہیں اُس وقت ایسی گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں گھبراہٹ میں مجھے باغ کے اند ر جانے کا راستہ بھی نظر نہ آیا اور میں گندے پانی کی نالی میں سے گذر کر اند ر داخل ہوا حالانکہ عموماً انہیں کمزور دل سمجھا جاتا تھا (مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنة قطعا)۔حقیقت یہ ہے کہ دین کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو افراد سے تعلق رکھتے ہیں جیسے نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ اور دوسرے ایسے احکام جو تمام لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے جہاد یا مشورہ کے لئے قوم کا جمع ہونا یا کوئی ایسا حکم جو ساری جماعت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر دیا گیا ہو جو کام ساری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں افراد سے نہیں اُن میں سب کو ایسا پرو یا ہوا ہونا چاہیے جیسے تسبیح کے دانے ایک تاگے میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی کو ذرا بھی ادھر اُدھر نہیں ہونا چاہیے اور اگر کوئی ضروری کا م کے لئے جانا چاہے تو امام کی اجازت سے جائے۔اسی حقیقت کو تصویری زبا ن میں ظاہر کرنے کے لئے لوگ جب تسبیح کے دانے پروتے ہیں تو تاگے کے دونوں سرے اکٹھے کر کے ایک لمبا دانہ پرودیتے ہیں اور اُسے امام کہتے ہیں۔درحقیقت اس سے قومی تنظیم کی اہمیت کی طرف ہی اشارہ ہوتا ہے اور یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ جس طرح تسبیح کے دانوں کے لئے ایک امام کی ضرورت ہے اسی طرح تمہیں بھی ہمیشہ ایک امام کے پیچھے چلنا چاہیے ورنہ تمہاری تسبیح وہ نتیجہ پیدا نہیں کر سکے گی جو اجتماعی تسبیح پیدا کیا کرتی ہے لیکن بہت کم ہیں جو اس گُر کو سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ شخص مومن ہی نہیں ہو سکتا جو ایسے امور میں جو ساری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اپنی رائے اور منشاء کے ماتحت کام کرے اور امام کی کوئی پروا نہ کرے مومن کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اگر کوئی دینی کام ہو تو اجازت لے لے اور اگر کوئی اہم دنیوی کام ہو جس کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہو تو امام سے مشورہ لے لے بہرحال امر جامع سے علیٰحدہ ہونے کے لئے استیذان ضروری ہوتا ہے۔مگر چونکہ انسان کا امر جامع سے علیٰحدہ ہونا اس کی شامتِ اعمال کی وجہ سے ہوگا اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُسے اجازت تو دےدو مگر ساتھ ہی دعا کیا کرو کہ خدا تعالیٰ اُسے معاف کرے اور اس کی کمزوریوں کو دُور کرے۔