تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 624

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ (اے مومنو!) یہ نہ سمجھو کہ رسول کا تم میں سے کسی کو بلانا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم میں سے بعض کا بعض کو بلانا۔بَعْضًا١ؕ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ اللہ (تعالیٰ) اُن لوگوں کو جانتا ہے جو کہ تم میں سے پہلو بچا کر (مشورہ کی مجلس سے) بھاگ جاتے ہیں۔پس چاہیے فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ کہ جو اس (رسول) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اس سے ڈریں کہ ان کو خدا(تعالیٰ) کی طرف سے فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۶۴ کوئی آفت نہ پہنچ جائے یا اُن کو دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔حلّ لُغَات۔یَتَسَلَّلُوْنَ۔تَسَلَّلَ مِنَ الزِّحَامِ کے معنے ہیں اِنْطَلَقَ فِیْ اسْتِخْفَآءٍ۔اجتماع سے خاموشی سے پوشیدہ ہو کر نکل گیا۔( اقرب) یَتَسَلَّلُوْنَ تَسَلَّلَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔پس اس کے معنے ہوں گے وہ پوشیدہ طور پر مجلس سے چلے جاتے ہیں۔لِوَاذًا۔لِوَاذٌ لَاَذَ کا مصدر ہے اور لَاَ ذَ لِوَاذً ا کے معنے ہوتے ہیں اِسْتَتَرَبِہٖ۔وہ اس کے ذریعہ سے چُھپا۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے امام کی آواز کے مقابلہ میں افراد کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز آئے تم فوراً اُس پر لبیک کہو اور اُس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے بلکہ اگر انسان اُس وقت نماز پڑ ھ رہا ہوتب بھی اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نماز توڑ کر خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز کا جواب دے۔ہمارے ہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایسا ہی کیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آواز دینے پر فوراً نماز توڑ دی اور آ پ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور غالباً میر مہدی حسین صاحب ؓ اور میاں عبداللہ صاحب سنوری ؓ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے