تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 622
کے لئے سردار قوم کے پاس جمع ہو ں تو اس کی اجازت کے بغیر مجلس سے نہ جائیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ مومن ہوںگے ورنہ نہیں۔پھر سردارِ قوم کو بھی ہدایت دی کہ اگر مشاورت میں جمع ہونے والے لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے کسی ضروری کا م کے لئے اجازت مانگے تو اسے اجازت دے دیں۔لیکن قومی مشورہ کے وقت کسی ایسی ضرورت کا پیش آجانا جس کی وجہ سے مجلس شوریٰ کو چھوڑنا پڑے یہ بھی کسی شامتِ اعمال کا نتیجہ ہو تا ہے اس لئے اے سردارِ جماعت تو ایسے موقع پر اجازت تو دے دیا کر مگر چونکہ وہ ضرورت جس کے لئے وہ اجازت مانگتے ہیں اُن کی کسی شامتِ اعمال کا نتیجہ ہوگی یا قومی مجلس سے اُٹھ جانے کی وجہ سے وہ لوگ سردارِ جماعت کی صحبت اور اس کے مشورہ سے اور مل کر کام کرنے سے محروم رہیں گے اور اس طرح اُن کے علم اور تجربہ میں کمی آجائے گی اس لئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر کہ یہ لوگ اس کے بد اثرات سے بچ جائیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہی کا ازالہ فرما دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ ؓ کو اس شدت کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کرنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ انہیں طبعی ضروریات کے لئے بھی مجلس سے بلا اجازت جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ایسی حالت میں صحابہ ؓ سِرک کر سامنے آجاتے یا انگلی اُٹھا دیتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ جاتے کہ کوئی حاجت ہے اور ہاتھ کے اشارہ سے اجازت دے دیتے (الدرالمنثور زیر آیت ھٰذا)مگر اس زمانہ میں عام طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا جاتا۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ ٔ اوّل رضی اللہ عنہ ایک دفعہ لاہور تشریف لے گئے جب آپ نے واپس قادیان آنے کا ارادہ فرمایا تو چونکہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ابھی وہاں کچھ دن اور ٹھہرنا تھا اس لئے آپ نے مجھے لاہو رمیںہی ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم اُن کے ساتھ آجانا ،جب میں آیا اور آپ کے پاس آکرمیں نے السلام علیکم کہا تو میرے سلام کا جواب دینے سے بھی پہلے آپ نے فرمایا۔میاں تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو ا۔میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ جتنے آدمی تھے وہ سارے ہمیں بٹالہ چھوڑ کر آگئے۔اس سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے امر جامع کے متعلق جو قرآنی حکم تھا اس پر عمل نہ کیا۔خلیفہ ٔ وقت کا وجود تو ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا اثر سارے عالمِ اسلام پر پڑتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو اس کا اثر لازماً سب جماعت پر پڑےگا۔اس لئے اس بارہ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ تو اس سختی کے ساتھ اس پر عمل کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوڑی دیر کے لئے بھی ادھر اُدھر ہونا اُن کے لئے ناقابلِ برداشت ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے کرتے مجلس سے اُٹھے اور تھوڑی دیر تک واپس نہ آئے تو سب صحابہ ؓ آپ کی تلاش میں بھاگ پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم