تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 620

خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے گا وہ بھی یہی ہوگا کہ فرشتے آکر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلام کہیں گے۔اگر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی یہ کہے کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں کسی کو سلام کہوں تو ہم کہیں گے کہ جب خدا تعالیٰ بھی اپنے مومن بندوں کو سلام پہنچا ئےگا تو اور کون ہے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی ضرورت نہ سمجھے۔سب سے پہلی چیز جو بندہ کو خدا تعالیٰ کی ملاقات کے وقت حاصل ہوگی وہ یہی سلام ہے۔پھر احادیث میں لکھا ہے کہ جبریل علیہ السلام جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ کو سلام کہتے (تاریخ الخمیس طلوع جبریل مجلس نبی صلی اللہ علیہ وسلم)۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو دیکھ کر سلام کہتے۔اب ان سے بڑا اور کون ہے جسے سلام کہنے کی ضرورت نہ ہو۔لیکن بہت لوگ ہیں خصوصًا انگریزی تعلیم یافتہ جو سلام کو بہت حقیر چیز سمجھتے ہیں اور وہ اپنے عمل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جبریل ؑ حتّٰی کہ خدا تعالیٰ سے بھی اپنے آپ کو بڑا قرار دیتے ہیں کیونکہ جس حکم کو بہت سی حکمتوں کے ماتحت خدا تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے بلکہ اپنی ذات کے لئے بھی رکھا ہے اور جس کی تاکید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔اس سے یہ لوگ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں۔اوّل تو صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے ہیں یا ایک دوسرے سے ملیں گے تو کہیں گے مولوی صاحب اور دوسرا اس کے جو اب میں کہہ دےگا۔بھائی صاحب یا کہہ دیں گےسنائو جی کیا حال ہے لیکن شریعت کا یہ منشاء نہیں۔شریعت نے السلام علیکم کہنا ضروری قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باہمی اتحاد کا ذریعہ قرار دیا ہے۔صحابہ ؓ اس کے اس قدر پابند تھے کہ ایک دفعہ ایک صحابی ؓ دوسرے صحابی ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے آئو بازار چلیں اُس صحابی ؓ نے سمجھا کہ کوئی کام ہوگا۔لیکن وہ بازار میں سےگھوم کر یونہی چلے آئے۔نہ کوئی کام کیا اور نہ کوئی چیز خریدی۔دو تین دن کے بعد پھر آئے اور کہنے لگے آئو بازار چلیں اُس صحابی ؓ نے کہا اُس دن تو آپ نے نہ کوئی چیز خریدی اور نہ کوئی اور کام کیا۔آج کوئی خاص کام ہے یا یونہی ساتھ لے چلے ہیں۔انہوں نے کہا میں بازار اس لئے جاتاہوں کہ کئی دوست ملتے ہیں وہ ہم کو سلام کہتے ہیں اور ہم اُن کو سلام کہتے ہیں۔تو صحابہ ؓ بازاروں میں صرف سلام کہنے کے لئے بھی جاتے تھے(الادب المفرد للبخاری باب من خرج یسلِّم و یسلَّم علیہ) تمہیں بھی چاہیے کہ بازاروں میں محلوں میں مجلسوں میں اور گھروں میں جہاں کسی کو ملو سلام کہو۔جاننے والوں کو بھی سلام کہو اور نہ جاننے والوں کو بھی سلام کہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سَلِّمْ عَلیٰ مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ (بخاری کتاب الاستئذان باب السلام للمعرفة و غیر معرفة)یعنی سب کو سلام کہیں خواہ کوئی واقف ہو یا نہ ہو۔غرض سلام کہنا ایک بہت بڑی نیکی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوتِ اسلامی کے قیام کے لئے