تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 621
اسے ضروری قرار دیا ہے۔پس تم سلام کو چھوٹی اور معمولی بات سمجھ کر نہ چھوڑ و بلکہ اس کی نگہداشت کرو۔کیونکہ شریعت نے اسے ایک اسلامی شعار قرار دیا ہے۔وہ لوگ جو بڑے درجوں پرہیں انہیں چاہیے کہ چھوٹوں کو سلام کیا کریں اور چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں کو سلام کیا کریں۔یہ نہ ہو کہ کوئی بھی سلام نہ کہے اور دونوں خاموشی سے گذر جائیں بلکہ میرے نزدیک بڑوں کو سلام کرنے میں سبقت اختیار کرنی چاہیے تاکہ انہیں دیکھ کر دوسروں کو بھی توجہ پید اہو اور وہ بھی اس قومی شعار کو اختیار کر لیں۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا صرف وہی لوگ مومن کہلانے کہ مستحق ہیں جو اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب کسی قومی کام کے لئے كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوْا حَتّٰى اس (رسول) کے پاس بیٹھے ہوں تو اُٹھ کر نہیں جاتے جب تک اُس کی اجازت نہ لے لیں۔وہ لوگ جو يَسْتَاْذِنُوْهُ۠١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ کہ اجازت لے کر جاتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔پس جب وہ اپنے کسی يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ اہم کام کے لئےاجازت لیں تو اُن میں سے جن کے متعلق تو چاہے انہیں شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اجازت دے دے اور اللہ( تعالیٰ) سے اُن کے لئے بخشش مانگ اور اللہ( تعالیٰ) یقیناً اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۶۳ بہت بخشنے والا (اور) با ر بار رحم کرنےوالا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں قومی نظام کو درست رکھنے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب مومن کسی قومی مشورہ