تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 619

کے تاکہ تمہارے آپس کے تعلقات بڑھیں اور تم محبت اور پیار سے رہ سکو۔پھر اس بارہ میں اللہ تعالیٰ ایک اور اہم ہدایت دیتا ہے اور فرماتا ہے۔فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً۔یعنی جب تم گھروں میں داخل ہو تو پہلے اپنے آپ کو سلام کر لیا کرویعنی اپنے اُن رشتہ داروں اور دوستوں کو سلا م کہو جو اُن مکانوں میں رہتے ہیں اور یاد رکھو کہ یہ سلام تمہارے مونہہ کا سلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑا تحفہ ہے یعنی سلام کا لفظ بظاہر تو معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن ہے بڑے عظیم الشان نتائج پید اکرنے والا کیونکہ سلام کے لفظ کے پیچھے خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا وعدہ ہے۔پس جب تم کسی بھائی کو سلام کہتے ہو تو تم نہیں کہتے بلکہ خدا تعالیٰ کی دُعا اُسے پہنچاتے ہو۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں لوگ عموماً اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم نہیں کہتے گویا اُن کے نزدیک دوسروں کے لئے تو یہ دُعا ہے لیکن اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے لئے نہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ جب بھی اپنے گھروں میں جائیں السلام علیکم کہا کریں۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جب بھی ایک شخص دوسرے شخص سے ملے اُسے سلام کرے خواہ اس کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو (نسائی کتاب الایمان و شرائعہ باب ایّ الاسلام خیر) مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ سلام کو بالکل ترک کر بیٹھا ہے۔ایسے لوگ سلام کہنے کی بجائے آداب وغیرہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اور جو شخص اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہے اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے پتھر ماردیا حالانکہ وہ خود اسلام کے ایک حکم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا انکار کرکے اپنے اوپر پتھر گراتے ہیں اور جو مرہم ہے اسے پتھر سمجھتے ہیں۔السلام علیکم کے معنے یہ ہیں کہ تم پر خدا تعالیٰ کی سلامتی نازل ہو اور تمہارے زخم مندمل ہوں مگر نادان کہتے ہیں کہ پتھر مار دیا اب بتائو کہ اس شخص سے زیادہ احمق اور کون ہو سکتا ہے جو مرہم کا نام پتھر رکھے۔پس ایک طبقہ تو ایسا ہے جو سلام کو بالکل ترک کر بیٹھا ہے۔اور دوسرا ایسا ہے جو تارک تو نہیں لیکن اس کی حقیقت سے ناواقف ہے۔ایسے لوگ مجلس میں آئیں گے اور چُپ کر کے بیٹھ جائیں گے گھروں میں داخل ہو ںگے اور خاموشی کے ساتھ داخل ہو جائیں گے اور انہیں خیال بھی نہیں آئےگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موقعہ کے لئے کوئی حکم ہے ؟ اور اگر توجہ دلائی جائے تو بعض کہہ دیں گے کہ معمولی بات ہے اگر سلام نہ کہا تو کیا ہوا۔بعض کہیں گے کہ حیا کی وجہ سے نہیں کہا۔بعض کہیں گے کہ ہمیں عادت نہیں مگر یہ تینوں قسم کے لوگ نادان ہیں۔حیاء کے معنے ہیں رُکنا اور رُکنا ایسی باتوں سے چاہیے جو مضر ہوں نہ کہ اُن سے جو فائدہ مند ہوں پھر قرآن کریم میں اور کسی چیز کو اس رنگ میں تحفہ نہیں کہا گیا جیسے سلام کو تحفہ کہا گیا ہے حتّٰی کہ مرنے کے بعد بھی جو تحفہ