تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 611
فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً ایک بڑی برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے۔اسی طرح اللہ (تعالیٰ) اپنے احکام طَيِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَؒ۰۰۶۲ تمہیں کھول کر سناتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔تفسیر۔مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کے نزول سے پہلے جب مسلمان جہاد کے لئے باہر جاتے تھے تو چونکہ اُ ن میں سے بعض کے گھر بالکل خالی ہوا کرتے تھے اس لئے وہ ایسے لوگوں کو جو معذوری کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہو سکتے تھے اپنے گھروں کی کنجیاں سپر د کر دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارے گھروں کا خیال رکھنا اور جو کچھ کھانے کی چیزیں ہمارے گھروں میںپڑی ہیں وہ استعمال کرتے رہنا مگر وہ لوگ اپنی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے دوسروں کے اموال کو استعمال کرنے سے احتراز کیا کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ ہمارا کا م صرف گھروں کی نگہداشت کرنا ہےہمارے لئے اُن کی کھانے پینے کی چیزیں استعمال کرنا جائز نہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جب انہوں نے خود تمہیں اپنے گھروں کی چابیاں دے دی ہیں اور وہ جہاد کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں تو تمہیں اُن کے گھروں سے اور اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں سے کھانا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یٰٓا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ ( النساء:۳۰) یعنی اے مومنو! تم آپس میں ناجائز طور پر اپنے مال نہ کھائو۔تو انصار نے کہا کہ اموال میں سےسب سے افضل چیز تو طعام ہی ہے۔پس جب خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے اموال کو ناجائز طور پر استعمال نہ کریں۔تو اگر ہم اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں گے تو ہو سکتا کہ ہم ان کا حق کھاجائیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہم مجرم ٹھہریں کیونکہ اندھے کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ میرے سامنے کیا کیا چیزیں پڑی ہیں۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ اچھی چیزیں ہم خود کھا جائیں اور اندھا اُن سے محروم رہ جائے۔اسی طرح لنگڑے کے متعلق بھی امکان ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی معذوری کی وجہ سے کھانے کے لئے دیر سے پہنچے یا بہت پیچھے بیٹھے اور اس طرح کھانے کی تقسیم اور اس کے استعمال میں اُس سے نا انصافی ہو جائے۔یہی حال